کیا حج کے دوران منیٰ کے میدان میں قیام ضروری ہے ؟ بعض لوگ کچھ دیر قیام کر کے ہوٹل چلے جاتے ہیں، کیایہ جائز ہے ؟ اگر ہوٹل حدود ِمنیٰ میں ہو یا باہر ہو بہر صورت اس میں ٹھہرنے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
ایامِ حج میں منیٰ کا قیام سنت ہے ، فرض یا واجب نہیں ، لہذا بلا کسی عذر کے اسکو چھوڑدینا مکروہ ہے، اسلئے بلاوجہ معمولی بہانے سے اس قیام کا ترک اچھا نہیں ، اس سے احتراز کرنا چاہیئے ۔ تاہم اگر کسی نے ترک کر دیا تو اس پر کوئی دم لازم نہیں ہوگا۔
کما فی الرد تحت : (قوله فيبيت بها للرمي) أي ليالي أيام الرمي هو السنة فلو بات بغيرها كره ولا يلزمه شيء اھ (2/529)۔
و فی المبسوط للسرخسی : وإن كان أقام أيام منى بمكة غير أنه يأتي منى في كل يوم فيرمي الجمار فقد أساء، ولا شيء عليه؛ لأنه ما ترك إلا السنة، وهي البيتوتة بمنى في ليالي الرمي اھ (4/67)۔