احکام حج

بیٹی کے انتقال کے بعد داماد کے ساتھ حج پر جانا

فتوی نمبر :
16953
| تاریخ :
2012-09-10
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

بیٹی کے انتقال کے بعد داماد کے ساتھ حج پر جانا

کیا عورت اپنی بیٹی کے انتقال کے بعد اپنے داماد کے ساتھ حج پر جاسکتی ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ساس محرماتِ ابد یہ میں سے ہے، اس لئے بیٹی کی حیات میں اور اس کے انتقال کے بعد داماد کے ساتھ حج پر جانا جائز اور درست ہے ، تاہم ساس جوان ہو اور اس دوران کسی قسم کے فتنہ کا اندیشہ ہو تو پھر داماد کے ساتھ اس سفر سے بھی احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى : حرمت عليكم أمهاتكم وبنتكم وأخواتكم وعمتكم وخلتكم و بنت الاخ و بنت الاخت وأمهاتكم التي أرضعنكم وأخواتكم منالرضاعة وانتهت نسائكم اھ( النساء آيت (٢٢)۔
و فی الشامیۃ : تحت (قوله مع زوج أو محرم) و المحرم من لا يجوز له منا كحتها على التأبيد لقرابة أو رضاع أو صهرية (إلى قوله) وبما تثبت به حرمة المصاهرة اھ (2/464)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 16953کی تصدیق کریں
0     529
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات