کیا زمین کو جو ٹھیکے پر دی گئی ہو یا خود کاشت کرتے ہوں حج فرض ہونے میں دخل ہے؟
محض زمین پر ملکیت کو وجوبِ حج وغیرہ میں دخل نہیں ،البتہ اس سے حاصل ہونے والی فصل اگر اس قدر ہو کہ اُسے فروخت کرکے حج پر جانے اور واپس آنے تک کے اپنے اور زیرِ کفالت افراد کے اخراجات پورے ہو سکتے ہوں، یا اتنی مالیت کی زمین اضافی پڑی ہو تو اس صورت میں ادائیگی حج لازم ہوگی ورنہ نہیں۔
کما فی الخانیۃ : وإن كان صاحب ضياع إن كان له من الضياع مالو باع مقدار ما يكفى لزاده و راحلته ذاهبا وجائيا ونفقة عياله، وأولاده، ويبقى له من الضيعة قدر ما يعيش بغلة الباقى يفترض عليه الحج، وإلا فلا، وإن كان حراثا أو أكارا فملك مالا يكفى للزاد والراحلة ذاهبا وجائيا، ونفقة عياله وأولاده من خروجه إلى رجوعه ويبقى له آلة الحراثين من البقر ونحو ذلك كان عليه الحج، وإلا فلا، اھ (1/282)۔