اگر کسی مسجد میں کوئی مؤذن اذان نہ دے، بلکہ الارم ایک کلارک ہو جس میں ریکارڈ اذان اس طرح پروگرام کر دیا گیا ہو کہ جب اذان کا وقت ہو ، تو اٹومیٹک اذان شروع ہو جاتی ہو ، تو کیا ایسی مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟
ایسی مسجد میں نماز پڑھنے اور پڑھانے والوں کے لیے کیا حکم ہے؟ جلدی جواب دیں تاکہ اطمینان کے ساتھ اور صحیح طریقہ سے نماز ادا ہو۔
ریکارڈ شدہ اذان سنانے سے اگرچہ اعلام کا فائدہ حاصل ہو رہاہو، مگر یہ کسی فاعلِ مختار کی آواز نہیں، اس لیے اس سے اذان کی سنت ادا نہیں ہوتی۔
ففی الدر المختار: (لا) تجب (بسماعه من الصدى والطير) اھ (2/ 108)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله من الصدى) هو ما يجيبك مثل صوتك في الجبال والصحاري ونحوهما كما في الصحاح. (قوله والطير) هو الأصح زيلعي وغيره، وقيل تجب. وفي الحجة هو الصحيح تتارخانية.قلت: والأكثر على تصحيح الأول وبه جزم في نور الإيضاح اھ (2/ 108)واللہ اعلم