مفتی صاحب ہماری ایک کزن (بالغ) لڑکی کا نکاح اس کے والد اور دادا نے ایک اچھی خاندان کے لڑکے جو اچھی نوکری پر تھا، اس کے ساتھ کر لیا ، نکاح کے وقت لڑکی کی طرف سے والد ہی وکیل مقرر ہوا اور بعوض پانچ تولے سونے حق مہر کے نکاح ہوا، لڑکی اور اس کے باقی خاندان والے اس نکاح سے بہت خوش تھے، جس لڑکے سے اس لڑکی کا نکاح ہوا تھا اس نے اتمام حجت کے لیے کئی دفعہ اس لڑکی سے پوچھا کہ تم اس نکاح سے خوش تو ہو، لڑکی نے کہا ہاں بالکل خوش ہوں ۔ یہ لڑکا لڑکی موبائل پر بات بھی کرنے لگے اور ایک دوسرے کو تحفے اور باہمی محبت کے خطوط بھی لکھتے رہے۔ کچھ عرصہ بعد لڑکے کے خاندان والوں کے حالات خراب ہو گئے، جس سے لڑکی کے خاندان والے بھی نالاں ہو گئے اور پچھتاوا ہونے لگا کہ شاید ہم نے صحیح قدم نہیں اٹھایا، لڑکی کے خاندان میں ایسی باتیں ہونے لگی، جس سے یہ لڑکی بھی اپنے اس رشتہ سے بدظن ہونے لگی، اس دوران لڑکی کا موبائل پر کسی اور لڑکے سے گپ شپ ہو گئی اور یہ لڑکی اس لڑکے کے ساتھ بھاگ کر ایک اور عدالتی نکاح کر لیا۔ جب اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ آپ کا تو پہلے ہی نکاح ہو چکا تھا اور آپ اس نکاح سے خوش بھی تھی، ایک دوسرے سے باہمی گفتگو خطوط اور تحفے بھی دیتے رہے یعنی تم نے من و عن کے ساتھ نکاح قبول کیا تھا، تو اب دوسرا نکاح کیسے کر لیا؟ تو لڑکی نے کہا کہ میں شروع سے اس نکاح پے خوش نہیں تھی اور میں اس نکاح کے ماننے سے انکار کرتی ہوں ۔تو کیا لڑکی کے اس طرح کہنے سے پہلا نکاح فسخ ہو گیا، جبکہ اس لڑکے کے پاس اس لڑکی کے خطوط اور تحائف اب بھی موجود ہیں۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے ۔ اس لڑکی کو گھر والے واپس لیکر آگئے ہیں، اب شرعی لحاظ سے اس لڑکی کا کون سا نکاح منعقد ہو چکا ہے۔ پہلا یا دوسرا ؟ لڑکی کے والدین کی خواہش ہے کہ پہلے جہاں نکاح ہوا ہے وہی اس کی رخصتی ہو جائے، کیونکہ وہ لڑکا اور اس کا خاندان ان کا ہم پلہ ہیں، جبکہ جس لڑکے کے ساتھ یہ لڑکی بھاگ گئی تھی، جس نے لڑکی کو دھوکا دیا تھا، کیونکہ وہ پہلے سے شادی شدہ اور تین بچیوں کا باپ تھا ۔اب واپسی کے بعد اس لڑکی کو اپنے کیے پر پچھتاوا ہے اور وہ کہہ رہی ہے کہ میں واقعی اپنے پہلے رشتے پے خوش تھی لیکن جب لڑکے کے خاندان کے حالات خراب ہو گئے اور میری خاندان والے ان کے متعلق باتیں کرنے لگے، تو میں اس رشتہ سے بدظن ہو گئی تھی، اس لیے اپنی جان چھڑانے کے لیے میں نے یہ قدم اٹھایا ۔
سائل کی بات اگر حقیقت پر مبنی ہو تو اس کی ماموں زاد لڑکی کا اپنے شوہر سے با ضابطہ طلاق یا خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کیے بغیر دوسرے شخص سے تعلقات قائم کر کے بھاگ کر اس کے ساتھ عقد نکاح کر لینا قطعا نا جائز و حرام ہوا ہے اور نیز یہ دوسرا نکاح سراسر باطل ہے جو شرعاً منعقد ہی نہیں ہوا ،اس لئے اس دوسرے نکاح کے بعد جتنا وقت یہ دونوں باہم ازدواجی حیثیت سے اکھٹے اور ایک ساتھ رہے ہیں حرامکاری اور زنا کے مرتکب ہوئے ہیں اور وہ اب بھی پہلے شوہر ہی کے نکاح میں ہے اس لئے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس فعل پر ندامت کے ساتھ بصدق دل توبہ و استغفار کرے۔ اب اگر مذکور پہلا شوہر اسے بحیثیت بیوی رکھنے پر رضا مند ہو تو اسے اس کا اختیار ہے ورنہ ظلم و زیادتی کے بجائے اسے اپنے نکاح کی بندھن سے آزاد کر دے تو یہ بہتر ہے ۔
ففي التفسير المظهري: وَالْمُحْصَناتُ مِنَ النِّساءِ عطف على أمهاتكم يعنى حرمت عليكم المحصنات من النّساء اى ذوات الأزواج لا يحل للغير نكاحهن ما لم يمت زوجها او يطلقها وتنقضى عدّتها من الوفاة او الطلاق اھ ( 2/ 64)
و في شرح النووي على مسلم: واتفقوا على أن التوبة من جميع المعاصي واجبة وأنها واجبة على الفور لايجوز تأخيرها سواء كانت المعصية صغيرة أوكبيرة الخ(17/ 59)
و في مشكاة المصابيح: وعن ابن عباس قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن لي امرأة لا ترد يد لامس فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «طلقها» قال: إني أحبها قال: «فأمسكها إذا» رواه أبو داود والنسائي (2/ 990)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. الخ(3/ 132)
و في الفتاوى الهندية: لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة كذا في السراج الوهاج اھ (1/ 280)