میرے پاس سعودی اقامہ(مستقل ویزا) ہے،جس پر میں اس سال حج کرنا چاہتا ہوں اور مجھے سعودی حکومت کا اجازت نامہ بھی مل جائے گا، میری بیوی اور بیٹی کا وزٹ ویزا لگا ہوا ہے اور وہ میرے ساتھ سعودیہ جائیں گے، میں اپنے ساتھ اپنی بیوی اور بیٹی کو بھی حج کروانا چاہتا ہوں اور ان دونوں کے اقامہ یعنی مستقل ویزا کی بہت کوشش کر رہا ہوں،لیکن کفیل کی بیماری کی وجہ سے حج سے پہلے لگنا مشکل ہوگیا ہے، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ اگر میں اپنی بیٹی اور بیوی کو وزٹ ویزا پر حج کرواؤں تو کیا شرعی طور پر اس میں کوئی قباحت تو نہیں؟کیونکہ سعودی حکومت وزٹ ویزا پر حج کی اجازت اور سہولتیں(منیٰ کا خیمہ وغیرہ) نہیں دیتی۔
اگرچہ وزٹ ویزے پر جاکر حج کرنے سے بھی حج ادا ہوجائے گا، مگر یہ طریقہ قانوناً ممنوع ہونے کی وجہ سے قانون شکنی کا گناہ بہر حال ہوگا، اس لئے مذکور طرزِ عمل کی بجائے خاص کر ادائیگئ حج وعمرہ کے لئے قانونی طور پر جانا ہی زیادہ بہتر ومناسب ہے۔
کمافی الشامیة: [مطلب طاعة الإمام واجبة] (قوله: أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته(الیٰ قوله)وفي الطحاوی عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة اھ(5/422)۔