میرے چند سوالات ہیں میں جاننا چاہتا ہوں کہ شریعت ان کے بارے میں کیا کہتی ہے۔ اگر آپ مجھے دلائل کے ساتھ قرآن و حدیث کے جواب دیں تو میں آپ کا ممنون رہوں گا ۔
(۱) اگر کوئی والدین اپنے بیٹے یا بیٹی پر کسی شخص سے شادی کرنے پر زبردستی کریں اور وہ لڑکا یا لڑکی وضاحت کر دیں ہم اس جگہ شادی نہیں کریں گے، جبکہ والدین ان کی اس بات کی پرواہ نہ کریں اور ان پر زبردستی کرتے رہیں اسی دباؤ میں اگر لڑکا یا لڑکی نکاح کو قبول کر لیں تو کیا شریعت میں یہ نکاح ہوگا یا نہیں ؟
(۲) دوسری صورت یہ ہے کہ اگر والدین کسی سے نکاح کرنے کا کہیں اور لڑکا یا لڑکی کچھ ظاہر نہ کریں کہ وہ شادی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ سوچیں کہ اگر ہم اس طرح کہیں گے تو کوئی برا واقعہ ہو سکتا ہے جیسے (دل کا دورہ) ؟ ایسی صورت میں وہ نکاح کو قبول کر لیتے ہیں نہ چاہتے ہوئے بھی تو کیا نکاح منعقد ہو جائیگا یا نہیں ۔
(۳) سوال نمبر ایک والی صورت ہو، لیکن نکاح کی نہیں بلکہ طلاق کی ہو کہ کسی شخص پر کوئی زبر دستی کرے کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو اور وہ راغب کرنے یا دھمکانے کی صورت میں طلاق دے تو کیا طلاق ہو جائے گی ؟
(۴) اگر کوئی عورت خلع کی درخواست کورٹ میں داخل کرتی ہے اور کورٹ شوہر کی دخل اندازی کے بغیر یا شوہر کو اطلاع دیے بغیر خلع کا حکم دے دیتی ہے تو کیا خلع ہو جائے گا؟
(۱، ۲)۔ والدین سے مجبور ہو کر نکاح کو قبول کرنے سے بھی نکاح منعقد ہو جاتا ہے، تاہم والدین کا مذکور طرز عمل (بالغ اولاد کی مرضی کے خلاف شادی کرنا )درست نہیں، اس طرح کے نکاح عموماً طلاق اور خلع پر منتج ہوتے ہیں، اس لئے اس طرز عمل سے احتراز لازم ہے۔
3۔ زبردستی کی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے، جبکہ زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کر دیے جائیں۔
4۔ خلع بھی دیگر عقود کی طرح ایک عقد ہے جو میاں بیوی کی رضا مندی سے منعقد ہوتا ہے اس لئے اگر کورٹ بیوی کے بیان پر یک طرفہ خلع کا فیصلہ دیدے تو شرعاً ایسا خلع منعقد ہی نہیں ہوتا، ایسے خلع کے باوجود میاں بیوی کا نکاح بدستور قائم رہتا ہے اور بیوی کو اس کی بنیاد پر دوسری جگہ شادی کرنا. نکاح پر نکاح ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔
و في الدر المختار: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي اھ (3/ 9)
وفيه أيضاً : (والولاية تنفيذ القول على الغير) تثبت بأربع: قرابة، وملك، وولاء، وإمامة (شاء أو أبى) وهي هنا نوعان: ولاية ندب على المكلفة ولو بكرا وولاية إجبار على الصغيرة ولو ثيبا ومعتوهة ومرقوقة كما أفاده بقوله (وهو) أي الولي (شرط) صحة (نكاح صغير ومجنون ورقيق) لا مكلفة اھ (3/ 55)
و في الفتاوى الهندية: يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة اھ (1/ 353)
ففي أحكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين (إلى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه اھ (3/ 152)