گناہ و ناجائز

’’ گولڈ مائن انٹرنیشنل کاروبار کی حلت وحرمت کا حکم

فتوی نمبر :
14070
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

’’ گولڈ مائن انٹرنیشنل کاروبار کی حلت وحرمت کا حکم

’’گولڈ مائن‘‘ کے بارے میں مکمل تفصیل چاہیئےکہ یہ حرام ہے یا حلال؟ اگر حرام ہے ،تو کن وجوہات کی بناء پر؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں تحریر کردہ ’’ گولڈ مائن انٹرنیشنل ‘‘کے طریقہ کار پر غور کیا گیا، آج کل اس نوعیت کا کاروبار کرنے والی بہت سی ایسی کمپنیاں آئی ہیں، جو کم قیمت کی چیز مہنگے دام فروخت کرتی ہیں، اور ساتھ ساتھ آگے ممبر بنا کر اس پر کمیشن دینے کی پیشکش کرتی ہیں، لوگ کمیشن کے لالچ میں آکر کم قیمت کی چیز مہنگے دام خرید لیتے ہیں، جو شرعاً ’’ قمار‘‘ یعنی جوئے کی ہی ایک شکل ہے۔
چنانچہ ’’ گولڈ مائن انٹرنیشنل ‘کمپنی کی مصنوعات اگر عام بازاری قیمت سے زیادہ پر فروخت کی جاتی ہیں، تو یہ کاروبار بھی نا جائز ہے اور اس کے معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کمپنی کی مصنوعات مارکیٹ میں نہیں ہیں تو اس چیز کو عام مارکیٹ میں فروخت کرے، لوگ جس قیمت پر خریدنے کے لئے تیار ہیں تو اس کی قیمت بازاری قیمت کے برابر ہے، اور اگر اس قیمت پر لوگ خریدنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو یہ علامت ہے کہ اس کی قیمت بازاری قیمت سے زیادہ ہے اور زیادہ قیمت داؤ پر لگی ہوئی ہے کہ اگر یہ شخص ممبر بنانے میں کامیاب ہو گیا تو ٹھیک ہے اور اگر ممبر بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا تو اس صورت میں اس کی زائد رقم ڈوب جائیگی۔ لیکن اگر کمپنی کی مصنوعات کی قیمتیں عام بازاری قیمت کے برابر ہوں یا بہت معمولی فرق ہو تو بھی اس کمپنی کے طریقۂ کار میں درجِ ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں:
(۱)۔ یہ بات جو کہی جاتی ہے کہ کمپنی کا اصل مقصد کمپنی کی مصنوعات کو فروخت کرنا ہی ہوتا ہے، محض حیلہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ اگر کوئی شخص ممبر بنے بغیر اس کمپنی کی مصنوعات خریدنا چاہے اور اس زنجیر میں شامل نہ ہوتو کمپنی اس کو یہ مصنوعات فروخت نہیں کرتی ۔
(۲)۔ کسی شخص کا کمپنی کے طریقہ کار میں کمیشن کا حقدار بننے کے لئے دونوں طرف ممبر بنانا شرط ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص ایک طرف ممبر بنائے اور دوسری طرف ممبر نہ بنائے یا مطلوبہ تعداد سے کم بنائے تو اس کو اس کی محنت کا صلہ نہیں ملتا، شرعی اعتبار سے یہ شرط لگانا جائز نہیں، کیونکہ اس میں ایک تو کسی شخص کی محنت بیکار جاتی ہے اور اس کا صلہ اس کو کچھ نہیں ملتا، دوسرا یہ کہ اس صورت میں اس کو ملنے والا کمیشن وجود و عدم کے درمیان معلّق ہے گویا اس طرح معاملہ ہوا کہ اگر دونوں طرف ممبر بنائے تو اتنا کمیشن ملے گا اور اگر اس سے کم بنائے تو کچھ بھی کمیشن نہیں ملے گا اور شرعاً یہ درست نہیں ۔ ہاں! اگر یہ ہوتا کہ ایک طرف ممبر بنانے پر کم کمیشن ملے گا اور مطلوبہ تعداد کے مطابق بنانے پر مکمل کمیشن ملے گا تو اس کی شرعاً گنجائش ہے۔ لہذا اس موجودہ طریقہ کار میں جو خرابیاں ہیں ان کے ساتھ اس کاروبار میں شرکت کرنا جائز نہیں، اس سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ جو لوگ اس طریقہ کار کے مطابق اس کاروبار میں شامل ہیں ان کو چاہئیے کہ اس کاروبار کو چھوڑ دیں اور جو غلطی ہوئی اس پر توبہ و استغفار کریں اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کو استعمال کرنے سے اجتناب کریں ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في تفسير ابن كثير: يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون (إلی قوله) ناهيا عباده المؤمنين عن تعاطي الخمر والميسر وهو القمار اھ (3/ 160)۔
و في الدر المختار: وكل أنواع الكسب في الإباحة سواء على المذهب الصحيح كما في البزازية وغيرها اھ (6/ 462)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): تحت (قوله وكل أنواع الكسب إلخ) أي أنواعه المباحة، (إلی قوله) أقول: فالمراد من قولهم كل أنواع الكسب في الإباحة سواء أنها بعد أن لم تكن بطريق محظور اھ (6/ 462)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
زاہد اللہ امان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 14070کی تصدیق کریں
0     511
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات