یہاں سعودی عرب میں جب حجِ تمتّع کیا جاتا ہے تو اکثر حاجی قربانی کے لیے(I,D,F)سے ایک ٹوکن خریدتے ہیں،حکومت بھی حاجیوں کو اس ٹوکن کو خریدنے کے لیے تلقین کرتی ہے، نیز وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ صحیح احادیث کے مطابق رمی ، قربانی، اور حلق کی ترتیب ضروری نہیں ہے،وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مختلف مسلک کے علماء کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ یہ ترتیب ضروری نہیں، مہربانی کر کے بتائیں کہ آیا اس ٹوکن کا خرید نا صحیح ہے یا نہیں؟ کیونکہ وہ قربانی کے لیے مخصوص وقت نہیں بتاتے البتہ 10 ،11،اور 12ذی الحجہ کے اندر کر دیتے ہیں۔
عند الأحناف رمی ، قربانی اور حلق میں ترتیب واجب ہے،اس کے خلاف کرنے سے دم واجب ہو جاتا ہے اس لیے مذکور ادارہ اگراس کا لحاظ نہ رکھتا ہو تو اس کے ذریعہ قربانی کروانا درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
كما فی اعلاء السنن: عن أنس أن النبى صلى الله عليه وسلم أتى منى فأتى الجمرة فرملها ثم أتى منزله بمنى فنحر ثم قال للحلاق خذ و أشار الى جانبهالأيمن ثم الأيسر ( ج : ١٠ ص : ١٥٧) ۔
و فی الهندية : وهي فی الشرع اسم لحيوان مخصوص بسن مخصوص يذبح بنية القربة فی يوم مخصوص عند وجود شرائطها و سببها (ج: ٥ ص : ۲۹۱)۔
و فی الدر المختار: فیجب فى يوم النحر أربعة اشياء الرمي ثم الذبح لغير المفرد ثم الحلق ثم الطواف لكن لا شيء على من طاف قبل الرمي و الحلق نعم يكره)لباب (ج: ٢ ص : ٥٥٥) ۔
و فی الشامية تحت: (قوله فیجب الخ) لما كان قوله او قدم الخ بیانا لوجوب الدم بعكس الترتيب فرع عليه أن الترتيب واجب مع بيان ما يجب ترتيبه و ما لا یجب اھ (2/555)۔