میرا سوال یہ ہے کہ میری ایک دوست ہے ،جس کے ساتھ بچپن میں زیادتی ہوئی تھی، اور اس کے گھر والوں کو اس بات کا علم نہیں ہے، اب گھر والے اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں، تو وہ کیا کرے ؟اور یہ صورت حال کسی کو بتا بھی نہیں سکتی۔
اسے چاہیے کہ وہ اپنے اس گناہ پر اللہ تعالی کے حضور خوب رو رو کر ندامت کے ساتھ بصدق دل توبہ و استغفار کرے،آئندہ ایسے گناہوں کے قریب جانے سے بھی مکمل احتراز کرےاور یہ کہ اب کسی کے سامنے اس کا تذکرہ بھی نہ کرے۔ ان شاء اللہ امید ہے کہ وہ رسوائی سے بچ جائے گی ۔
قال الله تعالى: {وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى } [طه: 82]
كما في مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «التائب من الذنب كمن لا ذنب له» . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان اھ (2/ 730)
كما في مشكاة المصابيح: وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن العبد إذا اعترف ثم تاب تاب الله عليه» متفق عليه اھ (2/ 721)