احکام حج

دورانِ حج نقاب کرنے سے دم وغیرہ کا حکم

فتوی نمبر :
12567
| تاریخ :
2011-07-17
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

دورانِ حج نقاب کرنے سے دم وغیرہ کا حکم

کیا دورانِ حج عورت کے نقاب کرنے سے قربانی کرنا ضروری ہو جاتی ہے ؟ اور اگر عام حالت میں نقاب فرض ہے تو کیایہ ممکن ہے کہ اللہ عورت کو حج کے دوران برہنہ کر دیتا ہے ، حالانکہ مردوں کا ستر تو احرام کی حالت میں باقی ہوتا ہے تو عورت کا کیوں نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عورت کے لیے حالتِ احرام میں بھی غیر محارم کے سامنے چہرہ ڈھانکنے کا حکم ہے ، اس لیے اس کے ڈھانکنے سے کسی قسم کا دم یا قربانی لازم نہیں آتی ، البتہ چہرہ پر کپڑا اس ترتیب سے ڈالنا چاہیے کہ چہرہ سے مس نہ ہو، اسلیے سوال میں مذکور اعتراض درست نہیں،جبکہ چہرہ کا پردہ خوف ِفتنہ کی بناء پر ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر : (قوله وتمنع المرأة إلخ) أي تنهى عنه وإن لم يكن عورة (قوله بل لخوف الفتنة) أي الفجور بها قاموس أو الشهوة. والمعنى تمنع من الكشف لخوف أن يرى الرجال وجهها فتقع الفتنة لأنه مع الكشف قد يقع النظر إليها بشهوة اھ (1/406)۔
و فی غنیةالناسک : ھی فیه کالرجل غير أنها لا تكشف رأسها وتكشف وجهها، والمراد بكشف ممماسة شيء له ، (إلی قوله)فلو سدلت عليه شيئا وجافته عنه جاز منه حيث الإحرام، لعدم كونه سترا، وإلا فسدل الشيء شيء مستحب ، كما في الفتح لكن في النهاية والمحيط أنه واجب، والتوفيق أن الاستحباب عند عدم الأجانب، وأما عند وجودهم فالإرخاء واجب عليها عند الإمكان اھ (94)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 12567کی تصدیق کریں
0     476
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات