السلام علیکم ! جناب مجھ سے کسی نے یہ سوال کرنے کا کہا ہے ، اگر کسی لڑکی کا کوئی محرم نہ ہو، تو وہ حج پر جانے کے لیے کسی آدمی سے نکاح مؤقّت کر سکتی ہے؟ مطلب یہ کہ وہ شخص اس کا محرم صرف حج تک کے لیے ہو، اور واپس آکر دونوں میں طلاق ہو جائے، اور وہ عورت اپنی عدّت پوری کرے ۔
جب عورت کو حج پر جانے کے لیے محرم میسر نہ ہو، تو اس پر حج بھی فرض نہیں ،لہذا س کی ادائیگی کے لیے نکاحِ مؤقت کرنا جائز نہیں،البتہ بوقتِ نکاح اگر توقیت نہ کی جائے، بلکہ عام الفاظ میں نکاح کر لیا جائے، تو شرعاً اس کی گنجائش ہوگی، مگر عارضی نکاح کرنا مقاصد ِشریعت کے خلاف ہے۔
كما فی الهداية : ويعتبر فى المرأة ان يكون لها محرم تجح به أو زوج ولا يجوز لها ان تحج بغيرهما إذا كان بينها وبين مكة ثلثة أيام (إلی قوله)قوله عليه السلام لا تحجن امرأة الا ومعها محرم ولا نها بدون الحرم يخاف عليها الفتنة اھ (1/ 233)۔
وفیها أیضاً : والنكاح الموقت باطل مثلاان يتزوج امرأة شهادة شاهدين عشرة ايام اھ (2 /313)۔
وفی المرقاة : قال القاضي عياض رحمه الله واجمعواعلى أن من نكح مطلقا ونيته أنه لا يمكث معها الامدة فنكاح صحيح اھ (6/ 308)۔