میں ۳۰ سال کا شادہ شدہ نوجوان لڑکا ہوں اکثر یہ ہوتاہے کہ حیض کے دنوں میں میرا بہت دل کررہا ہوتاہے تو کیا اس صورتحال میں بیوی اپنے خاوند کی مُٹھ (مشت زنی) کرسکتی ہے اور کیا خاوند بھی اپنی بیوی کی مشت زنی کرسکتاہے؟
اولاً تو ان چند دنوں میں صبر سے کام لینا چاہیے اور بیوی کے ناف سے گھٹنوں تک کے حصہ کے علاوہ بقیہ جسم سے استمتاع کرسکتے ہیں اور بہت زیادہ مجبوری اور گناہ میں پڑنے کا شدید اندیشہ ہو تو مذکور عمل کی بھی گنجائش ہے، مگر شدید مجبوری کے علاوہ بہر حال گناہ ہوگا، جس سے بچنے کی بھی ضرورت ہے۔
في الدر المختار: (و)یمنع حل (ٳلی قوله)(وقربان ماتحت الإزار)یعني مابین سرة ورکبة، ولو بلا شھوة وحل ماعداہ مطلقا اھ
وفي الفتاوی الشامية: (قوله:مابین سرة ورکبة)فیجوز الاستمتاع بالسرة ومافوقھا، والرکبة وماتحتھا ولو بلا حائل اھ (۱/۲۹۲)۔
وفي الدر المختار: وکذا الاستمناء بالکف، وٳن کرہ تحریما(ٳلی قوله)ولو خاف الزنی یرجی ٲن لا وبال علیه ٲھ
وفي الفتاوی الشامية: (قوله: ولوخاف الزنی الخ)(ٳلی قوله)ویجوز ٲن یستمني بید زوجته (ٳلی قوله)لأن فعله بید زوجته ونحوھا فیه سفح الماء لکن بالاستمتاع بجزء مباح اھ (۲/۳۹۹) واللہ أعلم بالصواب!