میرا سوال یہ ہے کہ" اسٹیٹ لائف انشورنس آف پاکستان" سے لائف انشورنس (زندگی کا بیمہ) کروانا جائز ہے کہ نہیں؟ جب کہ اسٹیٹ لائف کے اہلکار کا کہنا ہے ہم قسطوں پر لیتے ہیں اور حاصل شدہ رقم سے فالتو ادا کرتے ہیں، اسٹیٹ لائف بلڈنگز بناتی و خریدتی ہے اور رینٹ پر دیتی ہے اور اس سے جو انکم حاصل ہوتا ہے اسے پالیسی ہولڈرز میں پالیسی ہولڈرز کی قسط وار بیس پے ڈسٹریبیوٹ کرتی ہے مگر یہ منافع فیصد میں مقرر و طے شدہ نہیں، ہر سال کم یا زیادہ ہوتا رہتا ہے۔
برائے کرم قرآن و حدیث و فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
مہربانی فرماکر فتویٰ میرے ای میل ایڈریس پر ارسال فرمائیں۔
لازمی نہیں کہ ناجائز امور پر مشتمل کمپنیوں کے تمام کاروبار ہی ناجائز ہوں اس لئے مذکور معاملہ کی اگر مکمل تفصیل لکھ دی جائے یا اس کے بروشر و دیگر معاہدوں پر مشتمل کاغذات کی کاپیاں ای میل کردی جائیں تو اس کے بعد مزید حکمِ شرعی پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1