میں ایک سوفٹ ویر انجینیر ہوں اور میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میرے لئے ایسی کمپنی میں کام کرنا جائز ہے جو صرف موبائل گیمز بناتی ہے ، اور دوسرا یہ کہ آن لائن کرائے کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں کہ جس میں ایک شخص گاہکوں کو آن لائن حل مہیا کرتا ہے ،لیکن گاہکوں میں سے اکثر طالبعلم ہیں اور ان کے کاموں میں سے اکثر ان کے اپنے سکول یا کالج کے کام ہوتے ہیں جن کو کرنے ہوتے ہیں جن کو کرنے کے وہ ماہر بننا چاہتے ہیں۔
۔ اگر چہ ایسی کمپنی میں کام کرنا جائز ہے، مگر کراہت سے خالی نہیں۔
۔اگر آن لائن لوگوں کو معلومات فراہم کر کے اس پر اجرت وصول کی جاتی ہو جیسا کہ سوال سے یہی معلوم ہو رہا ہے تو یہ شرعا بھی جائز اور درست ہے۔
ففي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح بخلاف الاستئجار لكتابة الغناء والنوح أنه جائز؛ لأن الممنوع عنه نفس الغناء، والنوح لا كتابتهما اھ (4/ 189)
و فیہ ایضاً : ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء حقيقة وشرعا اھ (4/ 187)
دورِ حاضر میں ، حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے کی ضرورت کی بناء پر ، گھر میں ،ٹی وی رکھنا
یونیکوڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی 0ایسا سافٹ ویئر بنانا جس کو جائز و ناجائز دونوں طرح کے کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہو
یونیکوڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی 2سوفٹ ویئر انجینئر کے لیےایسے کمپنی میں کام کرنا جو موبائل گیمز بناتی ہواور آن لائن حل مہیا کر کے کرایہ لینے کا حکم
یونیکوڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی 0