کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیانِ عظام کہ آج کے جدید دورمیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا رحجان ہر طرف اور ہر شعبہ زندگی میں بڑھ رہا ہے ۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی قبولیت عامہ کی فقہی تکییف کیا ہے ؟ کیا یہ شرعاً معتبر ہو گا یا نہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) موجودہ دور میں ایک معلوماتی آلہ (Tool) اور ایک تکنیکی نظام ، جس کو لوگ معلومات جمع کرنے، تجزیہ کرنے، تلاش و تحقیق کے کام میں معاونت کے لئے استعمال کرتے ہیں، لیکن محض قبولیتِ عامہ کسی چیز کے شرعاً معتبر یا حجت ہونے کے لیے کافی نہیں ہوتی، بلکہ اس کی شرعی حیثیت اس کی حقیقت، نوعیت، استعمال اور نتائج کی صحت پر موقوف ہوتی ہے۔ لہٰذا AI اپنی ذات میں نہ مستقل شرعی حجت ہے اور نہ فیصلہ کن ماخذِ حکم، بلکہ ایک معاون ذریعہ، ہے جس سے تحقیق، تجزیہ اور رہنمائی کے لیے استفادہ تو کیا جا سکتا ہے، لیکن شرعی احکام، فتاویٰ، قضاء اور حقوق و ذمہ داریوں سے متعلق امور میں اس کے نتائج کو بلا تحقیق و تصدیق قطعی حجت قرار نہیں دیا سکتا، بلکہ ان معلومات کو شرعی اصولوں پر جانچنا اور مستند اہلِ علم سے ان کی توثیق کروانا ضروری ہوگا۔
دورِ حاضر میں ، حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے کی ضرورت کی بناء پر ، گھر میں ،ٹی وی رکھنا
یونیکوڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی 0ایسا سافٹ ویئر بنانا جس کو جائز و ناجائز دونوں طرح کے کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہو
یونیکوڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی 2سوفٹ ویئر انجینئر کے لیےایسے کمپنی میں کام کرنا جو موبائل گیمز بناتی ہواور آن لائن حل مہیا کر کے کرایہ لینے کا حکم
یونیکوڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی 0