کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مذکورہ مسئلہ کے بارے میں کہ جب دینی جلسہ ہوتا ہے تو بڑے بڑے علماء کی تقاریر کو ویڈیو کیسٹ کرتے ہیں ، بعد میں انھیں وی سی آر میں دیکھا جاتا ہے ، آیا یہ شرعاً جائز ہے کہ نہیں؟ اور اس کا حکم کیا ہے ؟ تصویر کے حکم میں ہے کہ نہیں؟ اور اگر تصویر کے حکم میں ہے تو علماء اس سے منع کیوں نہیں کرتے ہیں؟ آیا اس کے اندر کچھ گنجائش ہے؟ برائے کرم شریعت کی روشنی میں جواب دیں ، شکریہ
السائل: ابو نعم حمدللہ بلوچستانی
ویڈیو کیسٹ کا غالب استعمال چونکہ حرام کاموں میں ہورہا ہے اور تبلیغی امور میں اس کے استعمال سے ویڈیو کیسٹ کے ناجائز استعمالات کی حوصلہ افزائی بہر حال ہوتی ہے ، اسلئے تبلیغی امور میں بھی ویڈیو کیسٹ کو ذریعہ تشہیر بنانا درست نہیں ، اور پھر اس کے تصویر ہونے کا اگر یقین نہ بھی ہو جیسا کہ بعض محققین کی رائے ہے ، تاہم تصویر ہونے کا شبہ باقی ہے ، لہٰذا ایسے امور سے اجتناب کرنا چاہئے۔
دورِ حاضر میں ، حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنے کی ضرورت کی بناء پر ، گھر میں ،ٹی وی رکھنا
یونیکوڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی 0ایسا سافٹ ویئر بنانا جس کو جائز و ناجائز دونوں طرح کے کاموں میں استعمال کیا جاسکتا ہو
یونیکوڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی 2سوفٹ ویئر انجینئر کے لیےایسے کمپنی میں کام کرنا جو موبائل گیمز بناتی ہواور آن لائن حل مہیا کر کے کرایہ لینے کا حکم
یونیکوڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی 0