کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ ٹیلی ویژن ، جو کہ آج کے دور میں ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے ، اس کے ذریعے ہمیں دنیا بھر کی خبریں ملتی ہیں ، دینی پروگرام بھی آتے ہیں اور ڈرامے، فلمیں ، لغو اور فحش پروگرام بھی آتے ہیں ، تو کیا بحیثیت مسلمان ، ٹیلی ویژن کو گھر میں رکھنا اور دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟
موجودہ حالات میں ٹیلی ویژن بے شمار منکرات اور محرمات میں ہی استعمال کیا جاتا ہے ، جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) گانابجانا ، ساز سارنگی اور ڈھولک وغیرہ جو کہ قطعاً ناجائز ہیں ، جبکہ ٹیلی ویژن کے اکثر پروگرام اسی پر مشتمل ہوتے ہیں ، ان کے ہوتے ہوئے تصاویر کے بغیر بھی ، کوئی پروگرام دیکھنا یا سننا جائز نہیں۔
(۲) نامحرم مرد کا عکس ، کسی نامحرم عورت کو ، اور نامحرم عورت کا عکس ، کسی نامحرم مرد کو دیکھنا جائز نہیں ، جبکہ ٹی وی پروگرام نامحرم مرد و عورت پر ہی مشتمل ہوتے ہیں ، اور عام دیکھنے والے بھی نامحرم ہوتے ہیں۔
(۳) پروگرام خواہ کسی نوعیت کا ہو ، ٹی وی کے جو عام اثرات سامنے آرہے ہیں ، وہ یہ ہیں کہ بے حیائی ، فحاشی ، عریانیت ، بے غیرتی اور بے ادبی جیسے جرائم نہایت تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور پورا مسلم معاشرہ تباہ ہوکر رہ گیا ہے ، ظاہر ہے کہ ٹی وی کے حاصل اور انجام کو دیکھا جائے گا ، اور اس کا انجام انتہائی خطرناک اور خلافِ شرع ہے ، لہٰذا مذکورہ بالا منکرات اور فواحش ٹی وی کے پروگراموں میں ، جزلائنفک کی حیثیت رکھتے ہیں، تو ایسی صورت میں ٹی وی گھر میں رکھنا اور دیکھنا کسی طرح بھی جائز نہیں بلکہ اس سے احتراز واجب ہے۔
قال اللہ تعالی : و من الناس من یشتری لہو الحدیث لیضل عن سبیل اﷲ بغیر علم و یتخذہا ہزوا اولٰئک لہم عذاب مہین۔(سورۃ القمان آیت ۶)۔