(۱)کیا پاؤں چومنا جائز ہے یا ناجائز؟ بریلوی حضرات یہ منہاج القرآن سے بخاری کے حوالہ سے جائز سمجھتے ہیں، اور کچھ اور حوالے بھی دیتے ہیں۔
(۲) میرا سوال یہ ہے کہ ’’الف اور ’’ب‘‘ دو لڑکے ہیں، جن کے آپس میں لواطت کا تعلق ہے، بدکاری کرتے ہیں، تو کیا ’’الف‘‘ کی بہن کی شادی ’’ب‘‘ کے بھائی سے ہوسکتی ہے؟
کسی بزرگ پیر و مرشد کے ہاتھ یا پیشانی اور پاؤں کو احتراماً چومنا منع نہیں، بلکہ جائز ہے، جبکہ پاؤں پڑ کر چومنا یا ان کے سامنے اس طرح جھکنا کہ غیر اللہ کو سجدہ کے مشابہ ہو جائز نہیں، نیز اس طرح پاؤں چومنے میں چونکہ صورتِ سجدہ بن جاتی ہے، جو دوسروں کیلیے فسادِ عقیدہ کا ذریعہ ہے، اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔
(۲) اگرچہ ان دونوں کے مذکور ناجائز و حرام فعل کے ارتکاب سے شخصِ مذکور کی بہن کے رشتہ پر اثر نہیں پڑا، یہ رشتہ بلاشبہ جائز اور درست ہے، مگر اس رشتہ کے ہوجانے سے اگر مذکور فعلِ حرام کو تقویت ملنے اور رشتۂ ازواج کے ٹوٹنے کا اندیشہ ہو تو اس سے احتراز کیا جائے۔
ففي مشکاة المصابیح: وعن أنس قال: قال رجل: يا رسول الله الرجل منا يلقى أخاه أو صديقه أينحني له؟ قال: «لا» . قال: أفيلتزمه ويقبله؟ قال: «لا» . قال: أفيأخذ بيده ويصافحه؟ قال: «نعم» . رواه الترمذي اھ (۲/۴۰۱)۔
وفي المرقاة شرح مشکاة المصابیح: من الانحناء، وهو إمالة الرأس والظهر تواضعا وخدمة (قال: لا) أي: فإنه في معنى الركوع، وهو كالسجود من عبادة الله سبحانه (قال: أفيلتزمه) أي: يعتنقه ويقبله (قال: لا) : استدل بهذا الحديث من كره المعانقة والتقبيل، وقيل: لا يكره التقبيل لزهد، وعلم، وكبر سن، قال النووي: تقبيل يد الغير إن كان لعلمه وصيانته وزهده وديانته، ونحو ذلك من الأمور الدينية لم يكره، بل يستحب، وإن كان لغناه أو جاهه في دنياه كره وقيل حرام. اھ (۸/۴۲۲)۔
وفي الدر المختار للعلامة الحصکفي: (طلب من عالم أو زاهد أن) يدفع إليه قدمه و (يمكنه من قدمه ليقبله أجابه وقيل لا) يرخص فيه كما يكره تقبيل المرأة فم أخرى أو خدها عند اللقاء أو الوداع كما في القنية اھ (۶/۳۸۳)
وفي مشکاۃ المصابیح: عن ابن عباس وأبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ملعون من عمل عمل قوم لوط» . رواه رزين اھ (۲/۳۱۳)۔
وفي الدر المختار: (أما غيرها) يعني الميتة وصغيرة لم تشته (فلا) تثبت الحرمة بها أصلا كوطء دبر مطلقا اھ (۳/۳۴)۔
وفي حاشية ابن عابدین: تحت (قوله: مطلقا) أي سواء كان بصبي أو امرأة كما في غاية البيان وعليه الفتوى (ٳلی قوله) أتى رجل رجلا له أن يتزوج ابنته؛ لأن هذا الفعل لو كان في الإناث لا يوجب حرمة المصاهرة ففي الذكر أولى اھ (۳/۳۴) واللہ أعلم بالصواب!