ہم لوگ مسلمان ہیں، اس لیے کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں، اور اس کے رسول اللہ کی سنت پر عمل کرتے ہیں۔ تو آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کے رسول اللہ کے زمانے میں کوئی مفتی ، صوفی ہوتا تھا ۔ اور جو آپ لوگ اپنی انگلی ناک اور آنکھوں میں لگاتے ہیں اذان اور وضو کے وقت کیا یہ رسول اللہ کرتے تھے اور یا صحابہ ؟ جواب دیں ، اور بھی مسئلے ہیں۔
خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے مفتی اور صوفی تھے، اور صحابہ و تابعین میں بھی لوگوں کو مسائل شرعیہ بتانے والے اور ان کی اصلاح و تزکیہ کا کام کرنے والے موجود رہے، جس کی تفصیل اس فن کی کتابوں میں با حوالہ موجود ہے، البتہ وضو اور اذان کے وقت مذکور کام نہ اس وقت تھا ،اور نہ ہی اب اسے کوئی متبع شریعت شخص انجام دیتا ہے، محض کچھ لوگ اپنی عقیدت ظاہر کرنے کے لیے اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں، جس کا دینی احکام سے کوئی تعلق نہیں، اور ایسے امور سے مکمل احتراز چاہیے۔