محترم مفتی صاحب اگر عورت کو والدین شوہر کے ساتھ رہنے سے منع کردیں، تو اس عورت کے لیے کیا حکم ہے کہ وہ والدین کے ساتھ ہی رہے ، یا اس کو شوہر کے گھر جیسے جانا چاہیے، اور ان والدین کے لیے اوراس عورت کے لیے شریعت میں کیا حکم ہے؟
بیوی کے والدین اگر اس قدر ضعیف ومعذور ہوں کہ اپنے کام کاج اور ضروریات خود پوری نہ کرسکتے ہوں، اور وہ خدمت کے محتاج ہوں ،اوراس بیٹی کے علاوہ کوئی دوسرا بیٹا یا بیٹی بھی نہ ہوجو ان کی خدمت کرے، تو ایسی صورت میں شوہر کو چاہیے کہ بیوی کو اپنے والدین کی خدمت کا موقع دیا کرے اس پر اسے اجر وثواب بھی ہوگا، تاہم بیوی کو بھی چاہیے کہ ان کی خدمت کے ساتھ ساتھ شوہر کے حقوق کا بھی خیال رکھے اوراس کا گھر بھی آباد رکھنے کی فکر کرے، اور اگر اس منع کرنے سے مراد کچھ اور ہو تو اس کی مکمل وضاحت کرکے دوبارہ حکم شرعی معلوم کیا جائے۔
کما فی قولہ تعالی: وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ الخ (سورۃ العنکبوت ایة8)۔
وفی الدرالمختار: وكذا فيما لو أرادت حج الفرض بمحرم أو كان أبوها زمنا مثلا يحتاج إلى خدمتها ولو كان كافرا أو كانت لها نازلة ولم يسأل لها الزوج عنها من عالم فتخرج بلا إذنه كله الخ (3/146)۔