السلام علیکم! میں اپنی بہن کے بارے میں معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ کیا سنی لڑکی سے شیعہ لڑکے کا نکاح جائز ہے ؟ لڑکے کے عقائد کے بارے میں بتاتی چلوں کہ وہ اللہ کو ایک مانتا ہے۔ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے آخری رسول ہیں۔ ہاں خلافت پر اس کا کمپلیکٹ ہے، مگر وہ کہتا ہے کہ پہلا خلیفہ ہونا حضرت علی کو چاہیئے تھا ۔مگر مانتا ہے کہ ہیں حضرت ابو بکرؓ۔ تو ایسے شیعہ کے متعلق دین کے کیا احکام ہیں بس اتنا بتا دیں دونوں کی شادی جائز ہے یا نہیں ؟
شیعوں کے مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد مختلف ہیں، اس لیے شیعہ کو کافر قرار دینے میں تفصیل ہے۔ وہ یہ ہے کہ جس شیعہ کے عقائد و نظریات یہ ہوں مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا مانتا ہو یا قرآن میں تحریف کا قائل یا حضرت جبریل علیہ السلام کی وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو یا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا منکر ہو یا اس قسم کا کوئی اور مخالف قرآن صریح کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو وہ بلا شبہ کا فر ہے ۔
البتہ جو شیعہ کسی قسم کا کوئی صریح کفریہ عقیدہ نہ رکھتا ہو لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو برا بھلا کہتا ہو، یا تبرا بازی وغیرہ کرتا ہو تو ایسے شیعہ کے کفر میں اختلاف ہے اور جو شیعہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلفاء ثلاثہ پر فضیلت دیتا ہو وہ اگر چہ کا فر تو نہیں مگر فاسق فاجر ضرور ہے ،البتہ ان کے ساتھ معاملات و تعلقات رکھنے کی گنجائش ہے، مگر ان سے بھی احتراز بہر حال بہتر و افضل ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں شیعہ کے عقائد و نظریات اگر واقعۃً اس قابل ہوں کہ وہ کفر کے درجہ کونہ پہنچتے ہوں تو اگر چہ ان عقائد کی بناء پر اس کے ساتھ سنی العقیدہ لڑکی کے نکاح کی گنجائش ہے ،مگر اس سے احتراز ہی چاہیے ،کیونکہ مشاہدہ سے یہ بات بخوبی واضح ہو چکی ہے کہ اس طرح کی باتوں کے بعد جب نکاح ہو جاتا ہے تو وہ فورا یا کچھ وقت کے بعد وہ لڑکی کو بھی اپنے عقائد و نظریات پر مجبور کرتے ہیں۔ جس سے اکثر و بیشر میاں بیوی میں اختلافات جنم لیتے ہیں ، اس لیے شخص مذکور سے متعلق اس قسم کا فیصلہ کر نے سے احتیا ط لازم ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ (4/ 237)
وفيه أيضاً كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): أقول: نعم نقل في البزازية عن الخلاصة أن الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر، وإن كان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع. اهـ. (الى قوله ) وسب احد من الصحابة وبغضه لا يكون كفراً ، لكن یضلل اھ (4/ 237)