السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہے، براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا واضح اور مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
تین بھائیوں نے مل کر ایک زمین مشترکہ طور پر خریدی۔ زمین خریدتے وقت تینوں بھائیوں نے برابر رقم ادا کی تھی، اس لیے زمین میں تینوں کا حصہ برابر یعنی ایک تہائی (⅓، ⅓، ⅓) ہے۔
بعد ازاں اسی مشترکہ زمین پر تینوں بھائیوں نے اپنی اپنی ذاتی رقم سے الگ الگ تعمیرات کروائیں۔ تعمیر کی تفصیل یہ ہے:
• پہلے بھائی نے 2 پورشن تعمیر کیے۔
• دوسرے بھائی نے 3 پورشن تعمیر کیے۔
• تیسرے بھائی نے 4 پورشن تعمیر کیے۔
تمام پورشن تقریباً برابر رقبے اور یکساں نوعیت کے ہیں، اور ہر بھائی نے اپنے تعمیر کردہ پورشنز کا خرچ اپنی ذاتی رقم سے برداشت کیا ہے۔
اب یہ مکمل جائیداد (زمین اور تعمیرات سمیت) فروخت کر دی جائے تو سوال یہ ہے کہ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم شرعی طور پر کس طرح تقسیم کی جائے؟
کیا:
1. چونکہ زمین میں تینوں بھائی برابر کے شریک ہیں، اس لیے زمین کی موجودہ قیمت تینوں میں برابر (ایک تہائی، ایک تہائی، ایک تہائی) تقسیم کی جائے گی اور تعمیر کی قیمت ہر بھائی کو اس کی اپنی تعمیر کے حساب سے دی جائے گی؟
یا
2. زمین اور تعمیر دونوں کی مجموعی قیمت کو تعمیر کردہ پورشنز کی تعداد کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے گا، یعنی 2، 3 اور 4 کے تناسب سے؟
یا
3. اس صورت میں کوئی دوسرا شرعی طریقۂ تقسیم ہے؟
براہِ کرم اس مسئلے کا واضح، مدلل اور فقہی حوالہ جات کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں، خصوصاً یہ وضاحت فرمائیں کہ مشترکہ زمین پر ہر شریک کی اپنی ذاتی رقم سے کی گئی تعمیر کی شرعی ملکیت کیا ہوگی، اور مکان فروخت ہونے کی صورت میں زمین اور تعمیر کی قیمت کس تناسب سے تقسیم کی جائے گی۔
جزاکم اللہ خیراً کثیراً
صورتِ مسئولہ میں چونکہ زمین تینوں بھائیوں نے برابر رقم سے خریدی تھی، اس لیے زمین تینوں بھائیوں کے درمیان ایک تہائی (⅓) کے تناسب سے مشترک ہوگی، البتہ اس میں تعمیرات چونکہ مشترکہ طور پر نہیں ہوئیں، بلکہ ہر بھائی نے اپنے ذاتی پیسوں سے الگ الگ تعمیر کی ہے، اس لیے ہر بھائی کے انفرادی طور پر تعمیر کردہ پورشن اس کی ملکیت ہوں گے۔ اب اگرزمین کو تعمیر کردہ پورشنوں سمیت فروخت کیا جارہا ہو تو ایسی صورت میں زمین کی مد میں حاصل شدہ رقم تو تینوں بھائیوں کے درمیان ایک تہائی (⅓) کے تناسب سے تقسیم ہوگی، جبکہ تعمیر کی مد میں حاصل شدہ رقم میں سے ہر بھائی کو اس کے تعمیر کردہ پورشن کی مالیت کے بقدر رقم ملے گی ۔
کما فی دررالحکام في شرح مجلة الأحکام: إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بإذن الشريك الآخر أي أن تكون التعميرات الواقعة للمعمر وملكاً له، فتكون التعميرات المذكورة ملكاً للمعمر، ويكون الشريك الآخر قد أعار حصته لشريكه.(مادہ: 1309)
وفی فتاویٰ قاضی خان: رجل أمر غيره ببيع أرض فيها أشجار، وباع الوكيل الأرض بأشجارها، فقال الموكل: ما أمرته ببيع الأشجار، قال الشيخ الإمام أبو بكر محمد بن الفضل رحمه الله تعالى: القول قول الموكل، والمشتري يأخذ الأرض بحصتها من الثمن إن شاء، وكذا لو كان مكان الأشجار بناء.(جلد 2، کتاب البیوع)
وفی الہدایہ: الأصل أن ما يجوز إيراد العقد عليه بانفراده يجوز استثناؤه من العقد.(جلد 3، کتاب البیوع)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0