کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ دو فریقین نے آپس میں معاہدہ کیا
فریق اول نے 5 لاکھ کی رقم دی کاروبار کے لئے اور بچت پر ہر ماہ ٪ 8سے ٪ 12منافع کی شرط لگائی اور نقصان کا کوئی ذکر نہیں کیا. فریق دوم نے اس رقم سے کاروبار کیا اور دو ماہ منافع دیا اور پھر فریق اول نے اپنی اصل رقم کا مطالبہ کیا،اصل رقم واپسی کرنے پر جو مال عجلت میں بیچا گیا اس میں بھی نقصان ہوا۔اب فریق دوم کس حساب سے رقم واپس کرے گا؟پہلے مہینے منافع دیا 40 ہزار،دوسرے مہینے منافع دیا 40 ہزار 500 سو روپے ،رقم واپسی کے تقاضہ کے بعد 2 لاکھ 34 ہزار دے دیے ہیں ابھی تک۔
کیا جو پہلے فریق اول کو منافع دیا گیا وہ جائز ہوگا یا سود؟اور معاہدہ ختم ہونے پر واپس کی جانے والی اصل رقم کیا وہی ہوگی جو کاروبار شروع کرتے وقت دی تھی؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور فریقین کا کاروباری معاہدہ ،شریعتِ مُطَہَّرہ کی اصطلاح میں ”مضاربت “ کا معاہدہ کہلاتا ہے ، لیکن شرعی اصول و ضوابط( 1۔کل مدت کاروبار مثلاً سال دو سال یا کم و بیش کی تعیین۔ 2۔ منافع میں سے صرف ایک متعین فیصد کا تقرر ۔ 3۔کاروبار کی تعیین وغیرہ) نہ پائے جانے کی وجہ سے یہ معاہدۂ مضاربت فاسد ہوگیا تھا جس کا ختم کرنا لازم تھا اور ابھی جب یہ معاملہ ختم کرلیا گیا ہے تو چونکہ مضاربتِ فاسدہ کا حکم یہ ہے کہ سرمایہ مضارب( کاروبار کنندہ) کے پاس امانت ہوتا ہے اور اس سے حاصل ہونے والے تمام منافع رب المال (سرمایہ لگانے والے) کے ہوتے ہیں جبکہ مضارب (کاروبار کنندہ) کو اجرتِ مثل یعنی ایک ملازم کی مروَّجہ تنخواہ دی جاتی ہے اور اگر نقصان ہو جاتا ہے تو مضارب( کاروبار کنندہ) اس کا ضامن نہیں ہوتا بلکہ وہ سارا نقصان رب المال (سرمایہ لگانے والے) کا شمار ہوتا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں فریق اول کے پانچ لاکھ روپے فریقِ دوم کے پاس امانت تھے اور جب اس سے مال خریدا گیا تو وہ بھی فریقِ اول کی ملکیت شمار ہوگا جبکہ اب تک جو رقم منافع کے نام سے دی گئی ہے وہ اصل سرمایہ ہی کہلائے گی ۔پھر جب تمام مال فروخت ہوجائے تو اس سے حاصل ہونے والی مجموعی رقم سے اگر پانچ لاکھ روپے پورے ہوجاتے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر کمی آگئی تو فریقِ دوم اس نقصان کا ذمہ دار نہیں ہوگاجبکہ پانچ لاکھ سے زیادہ ہونے کی صورت میں تمام رقم منافع سمیت فریقِ اول کی ملک ہوگی اور فریقِ دوم کو بہر صورت دو ماہ کی اجرتِ مثل (جو ایک کاروباری ملازم کی مروَّجہ تنخواہ ہوتی ہے )دی جائے گی۔
پھر بھی اگر فریقین کے درمیان کوئی تنازع برقرار رہتا ہے تو کسی مستند دارالافتاء میں مفتیانِ کرام کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا اپنا موقف سامنے رکھتے ہوئے حکمِ شرعی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
کما فی البحر الرائق: الرابع أن يكون الربح بينهما شائعا كالنصف والثلث لا سهما معينا يقطع الشركة كمائة درهم أو مع النصف عشرة الخامس أن يكون نصيب كل منهما معلوما فكل شرط يؤدي إلى جهالة الربح فهي فاسدة وما لا فلا مثل أن يشترط أن تكون الوضيعة على المضارب أو عليها فهي صحيحة وهو باطل ۔۔۔وحكمها أنه أمين بعد دفع المال إليه ووكيل عند العمل وشريك عند الربح وأجير عند الفساد فله أجر مثله والربح كله لرب المال الخ(كتاب المضاربة ج:7 ص:264 ط: دارالكتاب الإسلامي بيروت)۔
و فی الدر المختار: (وركنها الإيجاب والقبول وحكمها) أنواع؛ لأنها (إيداع ابتداء) ۔۔۔ (وتوكيل مع العمل) لتصرفه بأمره (وشركة إن ربح وغصب إن خالف وإن أجاز) رب المال (بعده) لصيرورته غاصبا بالمخالفة (وإجارة فاسدة إن فسدت فلا ربح) للمضارب (حينئذ بل له أجر) مثل (عمله مطلقا) ربح أو لا (بلا زيادة على المشروط) خلافا لمحمد والثلاثة الخ
و فی الشامیۃ تحت (قوله: مطلقا) هو ظاهر الرواية قهستاني (قوله ربح أو لا) وعن أبي يوسف إذا لم يربح لا أجر له وهو الصحيح لئلا تربو الفاسدة على الصحيحة سائحاني ومثله في حاشية ط عن العيني (قوله على المشروط) قال في الملتقى: ولا يزاد على ما شرط له كذا في الهامش أي فيما إذا ربح وإلا فلا تتحقق الزيادة فلم يكن الفساد بسبب تسمية دراهم معينة للعامل تأمل (قوله خلافا لمحمد) فيه إشعار بأن الخلاف فيما إذا ربح، وأما إذا لم يربح فأجر المثل بالغا ما بلغ؛ لأنه لا يمكن تقدير بنصف الربح المعدوم كما في الفصولين لكن في الواقعات ما قاله أبو يوسف مخصوص بما إذا ربح وما قاله محمد إن له أجر المثل بالغا ما بلغ فيما هو أعم قهستاني (قوله: والثلاثة) فعنده له أجر مثل عمله بالغا ما بلغ إذا ربح در منتقى كذا في الهامش الخ (كتاب المضاربة ج:5 ص:646 ط: سعيد)۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0