استفتاء (شرعی سوال)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
زید (صاحبِ مال) اور عمر (محنت کرنے والے/مضارب) کے درمیان زمین کی خریداری کا ایک مشترکہ کاروبار (مضاربت) پچھلے پانچ سال سے چل رہا تھا۔ ان پانچ سالوں کے دوران زید (صاحبِ مال) ہر سال عمر سے زمین کی موجودہ مارکیٹ ویلیو (بازاری قیمت) پوچھتا رہا، اور عمر نے صرف قیمت معلوم کرنے کی حد تک زید کو زمین کی ویلیو بتا دی۔
اب زمین کی فروخت کے وقت زید یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ: "میں نے تم سے مارکیٹ ویلیو پوچھ کر تمہارے حصے کے منافع کی زکوٰۃ بھی ہر سال ادا کی ہے، اور چونکہ میں نے عام لفظوں میں (کاروبار کے شروع میں یا سرسری طور پر) یہ کہا تھا کہ میں زکوٰۃ دوں گا، اس لیے اب میں تمہارے پانچ سالہ منافع میں سے زکوٰۃ کی وہ رقم وضع (Minus) کروں گا۔"
دوسری طرف عمر (محنت کرنے والے) کا موقف یہ ہے کہ:
1. زید نے پانچ سالوں میں کبھی بھی بالخصوص یا صراحت کے ساتھ یہ ذکر نہیں کیا کہ "میں اس سال تمہاری طرف سے یا تمہارے فرضی منافع کی زکوٰۃ دینے لگا ہوں"۔
2. عمر نے صرف زمین کی مارکیٹ ویلیو بتائی تھی، زکوٰۃ ادا کرنے کی کوئی صریح اجازت، نیت یا وکالت زید کو نہیں دی تھی۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:
سوال نمبر 1: کیا صاحبِ مال کا محنت کرنے والے سے صرف زمین کی مارکیٹ ویلیو پوچھ لینا شرعاً اس بات کی اجازت یا وکالت شمار ہوگا کہ وہ محنت کرنے والے کی طرف سے زکوٰۃ ادا کر دے؟
سوال نمبر 2 : کیا محنت کرنے والے کی صریح اجازت، نیت یا اطلاع کے بغیر صاحبِ مال کا اپنے طور پر زکوٰۃ دے دینا عمر (محنت کرنے والے) کی طرف سے زکوٰۃ کی ادائیگی مانا جائے گا؟
سوال نمبر 3: زمین ابھی تک بکی نہیں تھی (یعنی انویسٹمنٹ لکویڈیٹ نہیں ہوئی تھی اور نفع ہاتھ میں نہیں آیا تھا)۔ کیا لکویڈیشن (فروخت) سے پہلے نفع پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے؟ جبکہ یہ خطرہ بھی ہو کہ اگلے سال نقصان ہو جائے؟
سوال نمبر ۴ - کیا اب فائنل حساب کتاب کے وقت صاحبِ مال کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اس بنیاد پر محنت کرنے والے کے حصے کے منافع سے زکوٰۃ کی رقم زبردستی کاٹے؟
صاحبِ مال (زید) کا مؤقف اور دلائل:
1. نفع میں کمی کا اعتراض: اگر میں ۵ سال تک اصل سرمائے اور پورے منافع کی زکوٰۃ اکیلا دیتا رہوں، تو میرا نیٹ نفع بہت کم ہو جائے گا اور عمر بغیر کٹوتی کے پورا ۵ کروڑ لے جائے گا، جو کہ ناانصافی ہے۔
2. زمین بیچنے کی مثال: اگر میں نقد زکوٰۃ دینے کے بجائے ہر سال زکوٰۃ کی مد میں زمین کا ایک ٹکڑا بیچتا رہتا، تو مشترکہ زمین کم ہو جاتی اور عمر کا منافع خود بخود کم ہو جاتا۔ تو اب نقد زکوٰۃ دینے پر عمر کے منافع سے کٹوتی کیوں نہیں ہو سکتی؟
سوال نمبر ۵ : کیا اکیلے زکوٰۃ دینے سے صاحبِ مال کے ساتھ ناانصافی کا یہ خدشہ شرعاً درست ہے؟
سوال نمبر ۶ : کیا مضاربت میں فائنل فروخت (Liquidation) سے پہلے زکوٰۃ کے لیے مشترکہ زمین کا حصہ بیچا جا سکتا ہے؟ اگر زمین کا ٹنی ہو تو کیا برابر کاٹی جایگی یا حصے کے مطابق؟ اور کیا اس دلیل کی بنیاد پر عمر کے منافع سے ۵ سالہ زکوٰۃ کاٹنا جائز ہے؟
واضح ہو کہ مضاربت کے عقد میں چونکہ اصل سرمایہ رب المال (سرمایہ کار) کی ملکیت ہوتا ہے، اس لیے سرمائے کی زکوٰۃ کی ذمہ داری بھی شرعاً تنہا رب المال ہی پر عائد ہوتی ہے۔البتہ اگر کاروبار میں سامان(Asset) وغیرہ فروخت کرکے منافع حاصل ہو یا بغیر فروخت کیے وقت گزرنے سے سامان وغیرہ کی قیمت زیادہ ہوئی ہو تو سرمایہ کار سمیت مضارب (محنت کرنے والے) کے حصہ کا نفع اگر تنہا یا دیگر اموالِ زکاۃ کے ساتھ مل کر نصاب تک پہنچتا ہو تو اس کے ذمہ اپنے حصے کی حد تک زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی،تاہم زکوۃ چونکہ ایک عبادت ہے اور عبادات میں عمل کرنے سے قبل نیت لازم ہوتی ہے،اس لئے مضارب سے باقاعدہ صراحت کے ساتھ پیشگی اجازت کے بغیر رب المال (سرمایہ کار) کےلئے مضارب کے حصے کی زکوۃ ادا کرنا درست نہیں اور اس سے مضارب کے حصے کی زکوۃ بھی ادا نہ ہوگی۔
«المبسوط» للسرخسي (3/ 39):
«(قال): والأجير والمضارب وصاحب البضاعة والمستودع والعبد والمكاتب لا يعتبر أحد من هؤلاء، أما الأجير وصاحب البضاعة والمستودع؛ فلأنهم أمناء لا حق لهم في المال، والعاشر إنما يأخذ الزكاة، ذلك لا يكون إلا بنية صاحب المال وأدائه أو أمره بذلك، ولم يوجد... وإن أخذ العاشر من المضارب شيئا فكذلك لا يجزئ رب المال من زكاته؛ لأن العاشر غاصب فيما أخذ منه بغير حق، ومن غير الزكاة غصب بعض ماله لم يجزه ذلك من الزكاة، ولا ضمان على المضارب؛ لأنه أمين أخذ منه المال بغير اختيار ولكن لا ربح له حتى يستوفي رب المال ماله لأن ما أخذ العاشر تاو فكأنه هلك بعض المال من يد المضارب، وإن كان المضارب هو الذي دفع ذلك إليه كان ضامنا لرب المال ما دفعه إليه إلا أنه خائن في دفع المال إلى غير من أمر بالدفع إليه»
اس تمہید کے بعد سائل کے سوالات کے جوابات(بشرط صحت سوال) ترتیب وار تحریر کئے جاتے ہیں:
(2،1): وکالت چونکہ دو طرفہ عقد ہےجو باقاعدہ وکالت کے صریح یا کنائی الفاظ کے ذریعے وجود میں آتاہے،اور کسی اثاثے کی فقط مارکیٹ ویلیو معلوم کرنا زکاۃ کی ادائیگی کی وکالت نہیں،لہٰذا اگر رب المال (زید) نے مضارب (عمر) کی صریح اجازت اور وکالت کے بغیر اپنے طور پر زکوٰۃ ادا کر دی ہے، تو شرعاً وہ مضارب (عمر) کی طرف سے زکوٰۃ کی ادائیگی شمار نہ ہوگی۔
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (2/ 41):
«ولو تصدق عن غيره بغير أمره فإن تصدق بمال نفسه جازت الصدقة عن نفسه ولا تجوز عن غيره وإن أجازه ورضي به ... وإن تصدق بمال المتصدق عنه وقف على إجازته فإن أجاز والمال قائم جاز عن الزكاة وإن كان المال هالكا جاز عن التطوع ولم يجز عن الزكاة؛ لأنه لما تصدق عنه بغير أمره وهلك المال صار بدله دينا في ذمته فلو جاز ذلك عن الزكاة كان أداء الدين عن الغير وأنه لا يجوز والله أعلم.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (2/ 268):
«(وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) كما لو دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم في يد الفقير، أو نوى عند الدفع للوكيل ثم دفع الوكيل بلا نية
[رد المحتار] (قوله: وشرط صحة أدائها إلخ) قد علم اشتراط النية من قوله أولا لله تعالى… قوله مقارنة) هو الأصل كما في سائر العبادات، وإنما اكتفي بالنية عند العزل كما سيأتي لأن الدفع يتفرق فيتخرج باستحضار النية عند كل دفع فاكتفى بذلك للحرج بحر…(قوله: والمال قائم في يد الفقير) بخلاف ما إذا نوى بعد هلاكه بحر. »
«التجريد للقدوري» (3/ 1351):
قال أصحابنا: إذا حال الحول على مال المضاربة وفيه ربح، فزكاة نصيب المضارب من الربح عليه ... لنا: إنه أحد الشريكين في مال المضاربة فجاز أن يلزمه زكاة نصيبه من الربح قبل القسمة، ويعتبر رأس المال، أصله: رب المال. ولأنها حالة يلزم رب المال زكاة نصيبه من الربح، فجاز أن يلزم المضارب زكاة نصيبه، أصله: إذا نض المال وتقاسما.»
(3):عقدِ مضاربت میں اگر چہ لکویڈیشن سے قبل کاروبار میں نقصان ہوکر منافع کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتاہے،لیکن چونکہ یہ خدشہ اور اندیشہ عقدِ مضاربت کے سرمایہ اور ہر قسم کے کاروبار میں ہوتاہے،اس لئے فقط اس اندیشہ کی وجہ سے زکاۃ ساقط نہ ہوگی،بلکہ سال پورا ہونے پر کاروبار میں موجود اثاثہ جات کی جو مارکیٹ ویلیو ہوگی اس کے مطابق مضارب کے ذمہ منافع میں سے اپنے حصے کی حد تک زکاۃ لازم ہوگی۔
نیز مضارب کے حصہ میں آنے والا سالانہ منافع اگر بقدر نصاب یا اس سے زائد تھا تو گزرے ہوئے تمام سالوں کی زکوۃ ڈھائی فیصد کے حساب سے ادا کرنا لازم ہوگا۔جس کا طریقۂ کار یہ ہے کہ پہلے ایک سال کی زکوۃ نکال کر الگ کرنے کے بعد بقیہ رقم کا ڈھائی فیصد حصہ نکالا جائے،اسی طرح ہر سال کی زکوۃ نکال کر الگ کرنے کے بعد بقیہ رقم کا چالیسواں حصہ بطورِ زکوۃ منہا کیا جائے۔
المعايير الشرعية للمؤسسات المالية الإسلامية:
يستحق المضارب نصيبه من الربح بمجرد ظهوره (تحققه)... ولكنه ملك غير مستقر إذ يكون محبوساً وقاية لرأس المال فلا يتأكد إلا بالقسمة عند التنضیض الحقيقي أو الحكمي(البند:8/8، أحكام الربح وشروطه، المعيار:رقم:13،المضاربة،ص:286)
«الجامع الكبير لمحمد بن الحسن» :
«مضارب معه ألف بالنصف، اشترى بها جارية تساوي ألفين، ولا مال له ولا لرب المال غير ذلك فحال الحول عليها،فعلى رب المال زكاة ثلاثة أرباعها وعلى المضارب [زكاة] الربع.(ص337)
«تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي» :
«ولو اشترى العامل بالألف أمة أو غنما أو بقرا أو موزونا يساوي ألفين زكى حظه لظهور الربح وبه قال الشافعي في قول وأحمد وقال مالك والشافعي في قول وأحمد في رواية لا يزكي لعدم ملكه الربح قبل القسمة،» (5/ 75)
«الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية»:
«ولو اشترى بها جارية تساوي ألفين فنقصت من عيب أو سعر حتى صارت تساوي ألفا ثم ازدادت فحال الحول من يوم اشتريت وهي تساوي ألفين فلا زكاة على المضارب وعلى رب المال زكاة ثلاثة أرباعها،» (4/ 337)
(5،4): کاروبار کے مکمل تصفیہ اور لکویڈیشن کے وقت اب اگر چہ رب المال کے منافع میں گزشتہ پانچ سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی کی وجہ سے کمی واقع ہورہی ہے لیکن چونکہ اس نے مضارب کے حصے کی زکوۃ مضارب کی پیشگی اجازت کے بغیر ادا کی ہے جو کہ شرعاً ادا نہیں ہوئی،اور اب مضارب کے ذمہ اپنے حصے کی گزشتہ پانچ سالوں کی زکوۃ لازم ہےاور اس میں چونکہ بے احتیاطی رب المال کی طرف سے ہوئی ہے(جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہوتاہے) کہ اس نے مضارب سے اس کے حصے کی زکوۃ ادا کرنے کےلئے پیشگی اجازت طلب نہیں کی،اب اپنی اس بے احتیاطی کے عوض رب المال کےلئے منافع کی کمی کا عذر کرکے منافع میں سے اپنے حصے کے علاوہ مضارب کے حصے کے منافع سے مزید کٹوتی کرنا شرعاً جائزنہیں،جس سے اجتناب لازم ہے۔
ففي القرآن الكريم:
﴿خُذۡ مِنۡ أَمۡوَٰلِهِمۡ صَدَقَة تُطَهِّرُهُمۡ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيۡهِمۡۖ إِنَّ صَلَوٰتَكَ سَكَنٞ لَّهُمۡۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ١٠٣﴾ [التوبة: 103]
«صحيح البخاري» (2/ 505):
«عن ابن عباس رضي الله عنهما: إن النبي صلى الله عليه وسلم: بعث معاذا رضي الله عنه إلى اليمن، فقال: (ادعهم إلى: شهادة أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، فإن هم أطاعوه لذلك، فأعلمهم أن الله قد افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة، فإن هم أطاعوه لذلك، فأعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة في أموالهم، تؤخذ من أغنيائهم وترد على فقرائهم).»
«الغرة المنيفة في تحقيق بعض مسائل الإمام أبي حنيفة»:
«حجة أبي حنيفة من وجهين:
الأول: قوله عليه الصلاة والسلام: "هاتوا ربع عشر أموالكم" وربع الشيء لا يبقى بدونه فالواجب من النصاب تحقيقا لليسر فيسقط بهلاك محله كالعبد الجاني أو العبد المديون إذا مات سقط عن المولى الدفع بالجناية والدين لفوات محله أو كالشقص1 الذي فيه الشفعة إذا صار بحرا بطل فيه جزء الشفعة.
الثاني: أن الشرع أوجب الزكاة بصفة اليسر وبهذا خص الوجوب بالمال النامي بعد الحول» (ص48)
(6):عقدِ مضاربت میں کاروباری انتظامات چونکہ مضارب کو حاصل ہوتے ہیں،رب المال کو شرعاً کاروبار کے انتظامی امور میں عمل دخل کا اختیار نہیں ہوتا،اس لئے رب المال کو مضارب کی اجازت کے بغیر زکاۃ کی ادائیگی یا کسی بھی وجہ سے مضاربہ کے اثاثہ جات فروخت کرنے کا اختیار نہیں ہوتا،البتہ اگر باہمی رضامندی سے زکاۃ کی ادائیگی وغیرہ کسی کام کےلئے کاروبار کے اثاثہ جات فروخت کیے جائیں تو شرعاً ایسا کرنا بلاشبہ جائز ہوگا،چنانچہ رب المال کےلئے اس بات کو بنیاد بنا کر مضارب سے گزشتہ پانچ سالوں کی زکاۃ کی مد میں منافع میں کٹوتی کرنا جائز نہیں،جبکہ سوال نمبر( 6) کا جو درمیانی حصہ ہےکہ :اگر زمین کاٹنی ہوالخ"یہ چونکہ واضح نہیں،اس لئے اس جملے کی مراد واضح ہونے کے بعد اس کے متعلق ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائےگا۔
«الاختيار لتعليل المختار» :
قال: (ولا بد أن يكون المال مسلما إلى المضارب) ; لأنه لا يقدر على العمل إلا باليد، فيجب أن تخلص يده فيه وتنقطع عنه يد رب المال.(3/ 20)
« الفتاوى الهندية» :
(ومنها) أن يكون المال مسلما إلى المضارب لا يد لرب المال فيه»(4/ 286)
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» :
«(ولنا) أن لرب المال في مال المضاربة ملك رقبة لا ملك تصرف، وملكه في حق التصرف كملك الأجنبي، وللمضارب فيه ملك التصرف لا الرقبة، فكان في حق ملك الرقبة كملك الأجنبي حتى لا يملك رب المال منعه عن التصرف،»(6/ 101)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0