فرض غسل کا ٹھیک اور شرعی طریقہ ارسال فرمادیں، بڑی مہربانی ہوگی۔ والسلام!
غسل کے تین فرض ہیں، ان کو ادا کرنے سے غسل پورا ہوجاتا ہے: (۱) کُلی کرنا، (۲) ناک میں پانی ڈالنا، (۳) اور پورے جسم پر پانی بہانا اس طور پر کہ بال برابر بھی جگہ خشک نہ رہے، جبکہ پورا طریقہ اور تفصیل اس کی یہ ہے کہ پہلے گٹّے تک دونوں ہاتھ دھوئیں پھر استنجے کی جگہ دھوئیں ، ہاتھ اور استنجے کی جگہ پر نجاست ہو تب بھی اور نہ ہو تب بھی ہر حال میں ان دونوں کو پہلے دھونا چاہیے، پھر جہاں بدن پر نجاست لگی ہو پاک کرے پھر وضو کرے اور اگر کسی چوکی یا پتھر پر غسل کرتا ہو تو وضو کرتے وقت پَیر بھی دھولے اور اگر ایسی جگہ ہے کہ پیر پانی سے بھر جائیں گے اور غسل کے بعد پھر دھونے پڑیں گے تو سارا وضو کرے مگر پیر نہ دھوئے، پھر وضو کے بعد تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈالے پھر تین مرتبہ داہنے کندھے پر پھر تین مرتبہ بائیں کندھے پر پانی ڈالے اس طرح کہ سارے بدن پر پانی بہہ جائے پھر اس جگہ سے ہٹ کر پاک جگہ میں آئے اور پھر پیر دھوئے اور اگر وضو کے وقت پیر دھولیے ہوں تو اب دھونے کی حاجت نہیں۔
ففی الهدایة: وفرض الغسل المضمضة والاستنشاق وغسل سائر البدن. اھ (1/29)
وفی الفتاویٰ الهندیة: (الفصل الاول فی فرائضه) وهی ثلاثة المضمضة والاستنشاق وغسل جمیع البدن علی ما فی المتون.اھ(۱/۱۳)
وفی الدر المختار: (البدائة بغسل یدیه وفرجه) وإن لم یكن به خبث اتباعا للحدیث (وخبث بدنه إن كان) علیه خبث لئلا یشیع (ثم یتوضأ) أطلقه فانصرف الی الكامل (الٰی قوله)(ثم یفیض الماء) علی كل بدنه ثلاثا (الی قوله) (بادئا بمنكبه الأیمن ثم الأیسر ثم برأسه ثم) علی (بقیة بدنه مع دلكه) ندبًا. اھ (ج:1،ص:151تا159)