السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ ۔
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو اشخاص کے درمیان شرکت کا ایک معاملہ طے پایا ہے۔
اس کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص منڈی میں فروٹ کا کاروبار کرتا ہے ۔ دوسرے شخص نے اس سے کہا کہ میرے پاس کچھ رقم موجود ہے، آپ اسے بھی اپنے کاروبار میں شامل کرلیں
چنانچہ دونوں کی رضامندی سے یہ معاملہ طے ہوگیا کہ منافع میں سے ستر فیصد حصہ کاروبار کرنے والا شخص لے گا اور تیس فیصد دوسرے شخص کو دے گا۔ البتہ کاروبار کرنے والا شخص یہ کہتا ہے کہ نقصان نہیں ہوگا، اور اگر بالفرض نقصان ہوگیا تو وہ صرف میری ذمہ داری ہوگی۔
اب سوال یہ ہے کہ شرکت کی ایسی صورت، جس میں نفع میں دونوں شریک ہوں لیکن نقصان کی ذمہ داری صرف ایک شخص اپنے اوپر لے لے، شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ شرکت یا مضاربت کی ایسی صورت، جس میں نقصان کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر ڈالنے کی شرط رکھی جائے، اس سے شرکت یا مضاربت کا معاملہ فاسد ہو جاتا ہے، جسے ختم کرنا ضروری ہے، اور اس کو برقرار رکھنے کی صورت میں فریقین میں سے کوئی بھی طے شدہ منافع کا حقدار نہیں ہوتا، بلکہ کاروباری منافع کا حقدار سرمایہ کا مالک قرار پاتا ہے، جبکہ کام کرنے والا شخص اجرتِ مثل کا حقدار ہوتا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور شرط (نقصان کی صورت میں ساری ذمہ داری کاروبار کرنے والے کی ہوگی، دوسرا فریق بری الذمہ ہوگا) کے ساتھ معاہدہ کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ یہ معاملہ شرعاً فاسد ہے، اور فریقین پر اس معاہدہ کو ختم کرکے ہر فریق پر اپنی سرمایہ کاری کے بقدر نقصان کی ذمہ داری اٹھانے کی شرط کے ساتھ ازسرِ نو معاہدہ کرنا لازم و ضروری ہے۔
تاہم اگر اس ترتیب سے کام جاری رکھا گیا ہو، تو کام کرنے والا شخص اجرتِ مثل کے بقدر رقم رکھنے کا حقدار ہوگا، جبکہ بقیہ مکمل منافع سرمایہ فراہم کرنے والے کے حوالے کرنا لازم ہوگا۔
کمافی مجلة الأحكام العدلية: المادة (1369) الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال بنسبة مقدار رءوس الأموال , وإذا شرط خلاف ذلك فلا يعتبر.(مجلة الأحكام العدلية (ص: 263) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)
وفي درر الحكام في شرح مجلة الأحكام : الضرر والخسارة التي تحصل بلا تعد ولا تقصير تقسم في كل حال أي أنه لو شرط خلاف ذلك سواء في الشركة الصحيحة أو الفاسدة، بنسبة مقدار رءوس الأموال وإذا شرط انقسامها على وجه آخر فلا يعتبر أي أن شرط تقسيم الوضيعة والخسارة على وجه آخر باطل حيث قد ورد في الحديث الشريف «الربح على ما شرطا والوضيعة على قدر المالين» (مجمع الأنهر) من غير فصل بين التساوي والتفاضل (الدر المنتقى) .(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(389/3)الناشر: دار الجيل بیروت)
وفي «حاشية ابن عابدين = رد المحتار - » : والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال، ولا عبرة بشرط الفضل) فلو كل المال لأحدهما فللآخر أجر مثله كما لو دفع دابته لرجل ليؤجرها والأجر بينهما، فالشركة فاسدة والربح للمالك وللآخر أجر مثله(4/ 326 ط الحلبي)
وفي «بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» : (ومنها) : أن يكون الربح معلوم القدر، فإن كان مجهولا تفسد الشركة؛ لأن الربح هو المعقود عليه، وجهالته توجب فساد العقد كما في البيع والإجارة.
(ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح.(6/ 59 ط مطبعة شركة المطبوعات العلمية مصر)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0