میں ایک پاکستانی حاجی ہوں اور حکومت پاکستان کی طرف سے جو حج کا انتظام کیا گیا ہے اُس میں میں حج پر جا رہا ہوں۔ اس دفعہ حکومت پاکستان نے جو حج کی قربانی ہوتی ہے اس کو دم شکر کہتے ہیں اس کے پیسے لازمی کر دیے ہیں لیکن میں پرائیویٹ قربانی کا انتظام بھی وہاں پر کروا چکا ہوں دم شکر کے حوالے سے تو معلوم یہ کرنا تھا کہ جو حکومت نے پیسے لیے ہیں مینڈیٹری کے نام پہ اس کو عید الاضحی کی قربانی میں کنورٹ کیا جا سکتا ہے؟ شریعت اس میں کیا حکم دیتی ہے؟
جی ہاں، صورتِ مسئولہ میں قربانی کا جانور ذبح کیے جانے سے پہلے پہلے اضحیہ( عید کی قربانی) کی نیت کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ حکومت والے جو جانور سائل کی طرف سے ذبح کریں گے، وہ سائل کی طرف سےعید کی قربانی کی نیت کرنے پر شرعاً بھی عید کی قربانی شمار ہوگی، البتہ جانور کے ذبح ہونے سے قبل اگر قربانی کی نیت نہ ہو تو اس کے بعد نیت کی تبدیلی شرعاً معتبر نہیں۔
کما فی الفتاوى الهندية: إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز.
ولو دفعها إلى الذمي ليدفعها إلى الفقراء جاز لوجود النية من الآمر هكذا في محيط السرخسي فإن تجدد للموكل نية أخرى بعد الدفع إلى الوكيل قبل دفع الوكيل إلى الفقير كان عما نوى أخيرا حتى لو دفع إليه دراهم يتصدق بها عن زكاة ماله فلم يدفع المأمور حتى نوى الآمر أن يكون عن نذره وقعت عن ذلك كذا في السراج الوهاج.
ولو قال إن دخلت هذه الدار فلله علي أن أتصدق بهذه المائة فدخل وهو ينوي عند الدخول أن يتصدق بها عن الزكاة لم يجزئه عن الزكاة كذا في محيط السرخسي. وإذا هلكت الوديعة عند المودع فدفع القيمة إلى صاحبها وهو فقير لدفع الخصومة يريد به الزكاة لا يجزيه كذا في فتاوى قاضي خان في فصل أداء الزكاة.
وإذا دفع إلى الفقير بلا نية ثم نواه عن الزكاة فإن كان المال قائما في يد الفقير أجزأه، وإلا فلا كذا في معراج الدراية والزاهدي والبحر الرائق والعيني وشرح الهداية.رجل أدى زكاة غيره عن مال ذلك الغير فأجازه المالك فإن كان المال قائما في يد الفقير جاز، وإلا فلا كذا في السراجية.» الخ( کتاب الزکوٰۃ الباب الاول ج:1 ص:171 ط: دار الفكر۔بیروت)۔