السلام و علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ قربانی کے حصوں میں چار لوگ یا جفت عدد میں بھی حصہ دار ہوسکتے ہیں۔
شکریہ۔
مزمل آفتاب
واضح ہو کہ بڑے جانور (گائے، بھینس، اونٹ وغیرہ) میں قربانی کرنے والے شرکاء کی تعداد زیادہ سے زیادہ سات ہےاور سات سے زیادہ افراد کی شرکت جائز نہیں، تاہم قربانی کے کسی بڑے جانور میں پورے سات افراد کا شریک ہونا یا شرکاء کی تعداد کا جفت یا طاق ہوشرعا لازم اور ضروری نہیں، بلکہ سات یا اس سے کم کسی بھی تعداد (چھ، پانچ، چار وغیرہ) میں افراد کی شرکت بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
’’عَنْ جَا بِرٍ رضی الله عنه قَالَ : خَرَ جْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰه صلی الله علیه و سلم مُھِلِّیْنَ بِالْحَجِّ ، فَاَمَرَنَا رَسُوْلَ اللّٰہه صلی الله علیه وسلم اَنْ نَّشْتَرِك فِي الْاِبِلِ وَالْبَقَرِ کُلُّ سَبْعَةٍ مِّنَّا فِي بَدَنَة ‘‘. اھ(صحیح مسلم:ج1،ص424)