میرا ایک دوست تین بکرے قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے پوچھنا یہ ہے کہ بکرے کو تین حصوں میں تقسیم کرنا ایک غرباء کیلئے، ایک اقرباء کیلئے اور ایک اپنے گھر کیلئے لازم ہے کیا؟ اگر کوئی ایک بکرا غرباء کو ایک اقرباء کو اور ایک اپنے لیے رکھے تو درست ہے کہ نہیں؟
سائل مذکور دونوں صورتوں میں سے کسی کو بھی اختیار کرسکتاہے۔
کما فی الھندیۃ: ویستحب ان یأکل من اضحیتہ ویعطم منہا غیرہ والافضل ان یتصدق بالثلث ویتخذ الثلث ضیافۃ لاقاربہ واصدقائہ ویدخر الثلث ویعطم الغنی والفقیر جمیعًا کذا فی البدائع. (ج:۵ ص: ۳۰۰) واللہ اعلم بالصواب