کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) ہمارے محلے میں ایک آدمی ہے وہ جب بھی اذان دیتا ہے تو اس کے ساتھ کتا بھونکتا ہے جیسے ہی وہ آدمی اذان دینا شروع کرے گا اس کے ساتھ ہی کتا بھونکنا شروع کردے گا اور کتا بھونکتا بھونکتا مسجد کے قریب آجائے گا اور کبھی اسی آدمی کی اذان کے دوران مسجد کی کھڑکی سے آ کر زور زور سے بھونکتا ہے کتے کی آواز اسپیکر میں بھی آنا شروع ہوجاتی ہے اگر کوئی اور آدمی اذان دے تو یہ معاملہ پیش نہیں آتا اور معاملہ کئی جگہوں پر در پیش ہے اور کسی کسی آدمی کے ساتھ ہے اس کی وضاحت فرمائیں؟
(۲) دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ عقیقہ کا حصہ قربانی کے جانور میں مقرر کیاجاسکتا ہے؟
(۱) اس کی وجہ ہماری سمجھ میں نہیں آئی اس لئے اس سلسلہ میں دوسرے علماء سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔
(۲) جی ہاں قربانی کے جانور میں عقیقہ کا حصہ رکھنا بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
و فی الشامیۃ : شمل مالو کانت القربۃ واجبۃ علی الکل أو البعض اتفقت جہاتہا أو لا : کأضحیۃ (الٰی قولہ) و کذا لو أراد بعضہم العقیقۃ عن ولد قد ولد لہ من قبل لان ذٰلک جہۃ التقرب بالشکر علی نعمۃ الولد ذکرہ محمدؒ۔ (ج۶، ص۳۲۶)۔
و فی البدائع : و لو أرادوا القربۃ الاضحیۃ أو غیرہا من القرب أجزأہم سواء کانت القربۃ واجبۃ أو تطوعا أو وجبت علی البعض دون البعض و سواء اتفقت جہات القربۃ أو اختلفت بان أراد بعضہم الاضحیہ و بعضہم جزاء الصید (الٰی قولہ) و کذالک إن اراد بعضہم العقیقۃ عن ولد ولدلہ من قبل لأن ذٰلک جہۃ التقرب إلی اﷲ تعالٰی عزّشانہ بالشکر علی ما أنعم علیہ من الولد کذا ذکر محمدؒ فی نوادر الضحایا۔ (ج۵، ص۷۲) و ھٰکذا فی الہندیۃ(ج۵، ص۳۰۴)۔