السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
اگر کوئی شخص پاک قطر فیملی تکافل سے 2 پالیسیاں لیتا ہے ایک پالیسی سالانہ 50٫000 روپے، جسکی ادائیگی کی مدت 5 سال اور اس کے بعد کم از کم مزید 5 سال رکھنے کے بعد مذکور رقم سے حاصل شدہ نفع سے فوائد حاصل کرسکتا ہے ۔ اس پالیسی کے لئے ہوئے 3 سال میں اب تک 1٫50٫000 روپے جمع کئے گئے ہیں۔
دوسری پالیسی سالانہ 6٫000 روپے جسکی ادائیگی کی مدت 20 سال اور اس دوران کم کم از کم 15 سال رکھنے کے بعد مذکور رقم سے حاصل شدہ نفع سے فوائد حاصل کرسکتا ہے۔ اس پالیسی کے لئے ہوئے 3 سال میں اب تک 18٫000 روپے جمع کئے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ حامل ہذا امام و مدرس ہے جسکی کل ماہانہ آمدنی 20,000 روپے ہے اور اس کے ساتھ فارغ اوقات میں اپنے گھر کے بیٹھک میں جو ایک پسماندہ علاقہ ہے کاپیوں کی تجارت کر لیتا ہے ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکور شخص پر قربانی واجب ہے یا نہیں ؟
صورت مسئولہ میں تکافل پالیسی میں بطورپریمم جمع کردہ رقم میں سے سروس جارجز اور دیگراخرجات کے طورپر کاٹی جانے والی رقم کے بعد اگرایام قربانی میں واجب الاداء قرضوں کو مہناکرنے کے بعد بقیہ رقم بقدرنصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کے بقدرہو، تو اس شخص پر قربانی شرعالازم ہوگی، ورنہ نہیں۔
الفتاوى الهندية (1/ 191):
"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان" اھ