قربانی مرحوم کی طرف سے کرسکتے ہیں؟ اپنے کسی مرحوم رشتہ دار کی طرف سے اگر قربانی کی جائے تو اس کا ثواب اس کو ملے گا؟ اگر کوئی شخص قربانی کی جگہ صدقہ و خیرات کردے تو کیا یہ بہتر نہیں ہے؟
ایصالِ ثواب کی غرض سے کسی مرحوم رشتہ دار کی طرف سے قربانی کرنا یا صدقہ و خیرات کرنا شرعاً دونوں جائز اور پسندیدہ ہیں، بلاشبہ ان کا اجر و ثواب مرحوم کو پہنچتا ہے اور موقع محل کی مناسبت سے دونوں میں سے کسی پر بھی عمل کیا جاسکتا ہے۔
کما فی الشامیۃ: من ضحی عن المیت یصنع کما یصنع فی اضحیۃ نفسہ من التصدق والأکل والأجرۃ للمیت والملک للذابح۔ (ج۴، ص۳۲۴)۔ واللہ اعلم بالصواب