السلام علیکم! میں عالم آزاد بن محمد اسرائیل نے1991 میں گلشن ضیاء کورنگی میں 120 گز کا ایک پلاٹ خریدا،1992 میں دو کمرہ اور کچن بنا کر شفٹ ہوا، اس سے قبل کرایا میں رہتا تھا ،میری کفالت میں ایک بہن اور ایک بھائی محمد شمشیرتھے،بھائی کا ایک حادثہ میں کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، میرے ساتھ رہتے تھے ،ڈھائی یا تین سال بعد بھائی ملازمت کرنے لگے، 1996میں میری شادی ہوئی، 1997 میں بیٹا ہوا ،میں نےاس مکان کو بیچ کر سیکڑD/13اورنگی میں 80 گز کا مکان خریدا، مکان خریدنے کے لیے اپنی بیوی کے زیورات بیچنے پڑے،1999یا2000 میں بہن کی شادی ہوئی جو کچھ عرصہ میں ختم ہو گئی ،تب سے بہن میرے ساتھ ہے،2001میں بھائی کی شادی ہوئی ،ایک دوسرے کے تعاون سے گھر چلتا رہا ،فیملی بڑھنے کی وجہ سے 2007 میں RCCگھر بنایا ،2009 میں بھائی اوپر شفٹ ہو گئے، 2019 میں بھائی نے 11 لاکھ خرچ کر کے ایک چھت RCCاور بنایا اور اپنے فلور کو اپنی ضرورت کے مطابق بنایا اور ابھی 2026 تک ساتھ ہیں، الگ ہونے کی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے، شریعت کی روشنی میں ہدایت فرمائیں اور حالانکہ میری بھابھی اس مکان کا اآدھا حصہ دینے کا مطالبہ کرتی ہیں اور میں محمد شمشیر بن محمد اسرائیل بھی ان سب باتوں سے اتفاق کرتا ہوں۔
سائل نے سوال میں مذکور مکان خریدتے وقت بیوی سے لیئےجانے والے زیورات کے متعلق تفصیل ذکر نہیں کی کہ وہ سائل نے کس مد میں لیئے تھے، اس لیے ان زیورات کے متعلق مکمل تفصیل معلوم ہونے سے قبل بیوی کا مذکور مکان میں حصہ دار ہونے یا نہ ہونے کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم مذکور مکان اگر سائل نے اپنی ذاتی رقم سے خریدا ہو، اس میں کسی اور( بھائی وغیرہ) کی کوئی رقم شامل نہ ہو تو ایسی صورت میں شرعا مذکور مکان سائل کی ملکیت شمار ہوگا، اس میں کسی اور کا کوئی حق نہ ہوگا ،البتہ اس کے بعد 2007 یا 2019 میں سائل کے بھائی نے جو فلور بنایا ہے ،وہ اگر اس نے اپنی ذاتی رقم سے بنایا ہو تو شرعا وہ سائل کے بھائی کی ملکیت شمار ہوگا ،اس میں شرعا سائل کا کوئی حق نہ ہوگا لہذا اگر سائل اور اس کا بھائی الگ ہو نا چاہتے ہیں تو مذکور مکان میں اپنی اپنی ملکیتوں کے تناسب سے یا باہمی رضامندی سے تقسیم عمل میں لا کر علیحدہ ہو سکتے ہیں۔
کمافی الدر المختار: (عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها) لصحة أمرها (ولو) عمر (لنفسه بلا إذنها العمارة له) ويكون غاصبا للعرصة فيؤمر بالتفريغ بطلبها ذلك (ولها بلا إذنها فالعمارة لها وهو متطوع) في البناء.
وفی ردالمحتار: قوله ( عمر دار زوجته الخ ) على هذا التفصيل عمارة كرمها وسائر أملاكها جامع الفصولين . وفيه عن العدة كل من بنى في دار غيره بأمره فالبناء لآمره ولو لنفسه بلا أمره فهو له وله رفعه إلا أن يضر بالبناء فيمنع ولو بنى لرب الأرض بلا أمره ينبغي أن يكون مبترعا كما مر إ ه (الی قولہ) قوله( والنفقة دين عليها ) لأنه غير متطوع في الإنفاق فيرجع عليها لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين ، زيلعي ، وظاهره وإن لم يشترط الرجوع، وفي المسألة اختلاف وتمامه في حاشية الرملي على جامع الفصولين قوله ( فالعمارة له ) هذا لو الآلة كلها له فلو بعضها له وبعضها لها فهي بينهما ط عن المقدسي قوله ( بلا إذنها ) فلو بإذنها تكون عارية ط.(کتاب الخنثی،ج:6،ص:747،ط:سعید)
وفی تنقیح الفتاوی الحامدیة: (سئل)رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنه وعن ورثته غیره فھل یکون القصر لبانیه ویکون کالمستعیر (الجواب)نعم کما صرح بذالک فی حاشیة الاشباه(الی قولہ) ویکون کالمستعیر فیکلف قلعه متی شاءاھ(کتاب العاریة،ج:2،ص:88،ط:حقانیۃ)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0