اسلام علیکم ۔۔
اللہ تعالیٰ میرے مدرسے کے تمام اساتذہ کرام کو امان میں رکھے ۔آمین۔
میرا نام عزت اللہ ہے اور میں نے الحمد للّٰہ جامعہ بنوریہ میں درجہ رابعہ تک پڑھا ہے ۔
آپ مفتیان کرام سے سوال یہ ہے کہ میرے والد صاحب وفات پا گئے
اب ہم 6 بھا ئی ہیں جس میں 4 شادی شدہ ہیں اور 2 شادی شدہ نہیں ہیں ۔اور ہم اکٹھے ایک ہی گھر میں رہتے ہیں کاروبار بھی ایک ہے
کیا ہم پر 6 قربانی واجب ہیں یا 4 یا 1 ۔
براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔
وسلام
واضح ہو کہ قربانی کے وجوب کے لیے عاقل، بالغ، مسلمان اور مقیم ہونے کے ساتھ ساتھ صاحبِ نصاب ہونا بھی ضروری ہے، یعنی اس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا (87.4875 گرام) یا ساڑھے باون تولہ چاندی (612.4125 گرام) یا ان کی قیمت کے برابر رقم موجود ہو۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر سائل اور اس کے بھائیوں میں سے ہر ایک کی ملکیت میں اتنی مالیت موجود ہو جو نصاب کو پہنچ جائے، یا جس ترکہ اور کاروبار میں وہ شریک ہیں اس میں ہر ایک کا حصہ نصاب کے بقدر ہو اور انہوں نے باہمی رضامندی سے اس کاروبار کو مشترکہ چلانے پر اتفاق کیا ہو تو ایسی صورت میں اگرچہ ان سب کی رہائش مشترکہ گھر میں ہو تب بھی ہر ایک پر علیحدہ علیحدہ قربانی واجب ہوگی، اور سب کی طرف سے ایک مشترکہ قربانی کافی نہ ہوگی۔ البتہ اگر سائل اور اس کے بھائیوں میں سے کسی ایک کی ملکیت میں بقدر نصاب مالیت موجود نہ ہو، اور نہ ہی مشترکہ کاروبار میں اس کا حصہ نصاب کو پہنچتا ہو، تو ایسی صورت میں کسی پر بھی قربانی واجب نہ ہوگی۔
کما فی بدائع الصنائع : ومنها الغنى لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال { : من وجد سعة فليضح } شرط عليه الصلاة والسلام السعة وهي الغنى ولأنا أوجبناها بمطلق المال ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر ، وقد ذكرناه وما يتصل به من المسائل في صدقة الفطر . (ج 10 ص 254 فصل فی شرائط وجوب فی الاضحیۃ)
وفی الفتاوی الھندیۃ: والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك (ج5 ص 292)