نکاح

غیر کفو میں نکاح کرنے کے بعد طلاق دینے سے طلاق واقع ہوگی یا متارکت ؟

فتوی نمبر :
94125
| تاریخ :
2026-04-13
معاملات / احکام نکاح / نکاح

غیر کفو میں نکاح کرنے کے بعد طلاق دینے سے طلاق واقع ہوگی یا متارکت ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم مفتی صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔

ذیل میں ایک نکاح سے متعلق پیچیدہ مسئلہ پیش
کیا جا رہا ہے۔ براہِ کرم قرآن، سنت اور فقہِ حنفی کے اصولوں کی روشنی میں اس پر رہنمائی فرمائیں۔

معاملے کی تفصیل

ایک لڑکے اور لڑکی نے اپنے گھر والوں، خصوصاً لڑکی کے ولی کی اجازت کے بغیر
آپس میں نکاح کر لیا۔

لڑکا اپنے آپ کو “سید” کہتا ہے اور اس کے پاس 1990ء کا ایک نسب نامہ موجود ہے، جو اس کے دادا نے اس وقت بنوایا تھا جب ان کے نسب پر اعتراضات کیے جانے لگے تھے۔ مقامی طور پر بعض لوگ انہیں “تیلی” کہتے تھے، جس کی وجہ ان کے خاندانی پیشے (عطر فروشی) کو بتایا جاتا ہے۔

دوسری طرف، لڑکی کے خاندان کا لڑکے کے خاندان سے پرانا تعلق رہا ہے، اور ان کے علم و مشاہدے کے مطابق لڑکا سید نہیں بلکہ کسی اور قبیلے سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ لڑکی ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی ہے،

نکاح کے بعد فریقین کے درمیان خلوت ہوئی، لیکن دخول نہیں ہوا۔ بعد میں جب لڑکی کے والدین کو علم ہوا تو انہوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور دباؤ کے تحت لڑکے سے تین طلاقیں دلوائی گئیں۔

لڑکے کے گھر والوں نے بھی اس نکاح کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی اسے تسلیم کیا، بلکہ لڑکی کو اپنے گھر رکھنے سے بھی انکار کر دیا۔
ایک مفتی صاحب نے امام حسن بن زیادؒ کے قول کے مطابق فرمایاکہ
نکاح منعقد ہو چکا تھا، کیونکہ بالغہ عاقلہ عورت اپنا نکاح خود کر سکتی ہے۔
• ولی کی اجازت نہ ہونے اور غیر کفو ہونے کی وجہ سے ولی کو اس نکاح پر اعتراض اور فسخ کا حق حاصل تھا۔
نکاح کے بعد دی گئی تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔
عدت لازم تھی، جو مکمل کی گئی۔

دوسری رائے (امام حسن بن زیادؒ کے قول کے مطابق کہ
اگر مرد مالی طور پر نفقہ دینے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ کفو نہیں۔
ایسی صورت میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔
لہٰذا اس نکاح پر دی گئی طلاقیں بھی واقع نہیں ہوئیں۔

اسی رائے کی بنیاد پر بعد میں ولی کی اجازت سے دوبارہ نکاح کیا گیا، جسے اب تقریباً تین سال ہو چکے ہیں، اور اس سے دو بچے بھی پیدا ہو چکے ہیں۔

پہلے نکاح کے وقت لڑکے کی حالت یہ تھی،
ازدواجی ذمہ داریاں اٹھا سکے۔
ماہانہ آمدنی تقریباً 5000 روپے
کوئی ذاتی جائیداد یا مالی خودمختاری نہیں
نان و نفقہ اور رہائش کا بندوبست کرنے سے عاجز
والد کے زیرِ کفالت تھا، اور والد کی طرف سے لڑکی کو رکھنے سے انکار کر دیا گیا
مہر 5000 روپے مقرر کیا گیا تھا، جو لڑکے نے ادا بھی کر دیا تھا، لیکن یہ مہرِ مثل کے مقابلے میں بہت کم تھا

موجودہ صورتحال
نکاح کے وقت لڑکا مالی طور پر اس قابل نہیں تھا کہ خود مستقل طور پراسے یہ امید تھی کہ وہ اپنے والد کو منا لے گا، ان کے کاروبار میں باقاعدہ کام کرے گا اور مشترکہ خاندانی نظام (جوائنٹ فیملی) میں رہائش اختیار کر لے گا۔
تاہم نکاح کے وقت لڑکے کے والد کو اس نکاح کا علم نہیں تھا۔
جب بعد میں انہیں اس نکاح کا علم ہوا تو انہوں نے اس رشتے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کسی بھی قسم کی مالی یا رہائشی ذمہ داری لینے سے صاف انکار کر دیا۔
اس کے نتیجے میں لڑکا خود بھی مستقل طور پر نان و نفقہ اور رہائش کا بندوبست کرنے کے قابل نہ رہا۔

یہ مسئلہ شدید ذہنی پریشانی اور اضطراب کا باعث ہے، اس لیے واضح اور مدلل شرعی رہنمائی کی درخواست ہے۔

جزاکم اللہ خیرا ، اس وقت یہ جوڑا لڑکی کے والدین کے گھر رہ رہا ہے، جہاں بنیادی اخراجات (رہائش، کھانا، یوٹیلیٹیز وغیرہ) زیادہ تر لڑکی کے والدین ہی برداشت کر رہے ہیں۔

درخواستِ رہنمائی

مندرجہ ذیل امور میں وضاحت درکار ہے:
1. کیا امام حسن بن زیادؒ کے قول کے مطابق پہلا نکاح غیر کفو اور بغیر ولی ہونے کی وجہ سے سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا؟
2. اگر نکاح منعقد نہیں ہوا تو کیا اس پر دی گئی طلاقیں بھی واقع نہیں ہوئیں؟
3. کیا بعد میں ولی کی اجازت سے کیا گیا نکاح مکمل طور پر درست، معتبر

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مفتی بہ قول کے مطابق اگر لڑکا کسی لڑکی کا کفؤ وہم پلہ نہ ہو، تو ایسی صورت میں لڑکی کا اولیاء کی اجازت کے بغیر کیا ہوا نکاح منعقد نہیں ہوتا، چنانچہ صورت مسؤلہ میں اگر واقعۃ مذکور لڑکا نکاح اول کے وقت حسب ونسب وغیرہ ودیگر امور میں لڑکی کے برابر کا نہیں تھا، تو مذکور لڑکی کا اولیاء کی اجازت کے بغیر اس لڑکے کے ساتھ کیا ہوا نکاح منعقد ہی نہیں ہوا تھا، یا زیادہ سے زیادہ کفائت کی شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے یہ نکاح، نکاح فاسد ہوا تھا، جس میں شوہر پر متارکت واجب ہوتی ہے اور اگر وہ طلاق کے الفاظ استعمال کرلے تو وہ بھی متارکت ہی شمار ہوتی ہے نہ کہ طلاق، یعنی اس سے طلاق کی تعداد کم یا ختم نہیں ہوتی، بلکہ جب دوبارہ نکاح صحیح کیا جائے، تو مکمل تین طلاق کا اختیار حاصل ہوتا ہے، لہذا اگر لڑکے سے لڑکی والوں نے تین طلاقیں دلوائی بھی ہوں تو اس سے طلاقیں واقع نہیں ہوتی بلکہ متارکت (یعنی چھوڑنا جو نکاح فاسد میں لازم ہوتا ہے) واقع ہوئی ہےاور پھر بعد میں اولیاء کی رضامندی سے کیا گیا نکاح بلاشبہ صحیح اور درست منعقد ہوا، لہذا اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ( الکفاءۃ معتبرۃ ) فی ابتداء النکاح للزومہ او لصحتہ ( من جانبہ )
وفی رد المحتار تحت قولہ ( الکفاءۃ معتبرۃ ) قالو معناہ معتبرۃ فی اللزوم علی الاولیاء حتی ان عند عدمھا جاز للولی الفسخ اھ فتح و ھذا بناء علی ظاھر الروایۃ من ان العقد صحیح ، و للولی الاعتراض ، اما علی روایۃ الحسن المختار للفتوی من انہ لا یصح ( باب الکفاءۃ، ج: 3، ص: 74، ط: سعید )
و فی الدر المختار: ( ویفتی ) فی غیر الکفء ( بعدم جوازہ اصلا) و ھو المختار للفتوی (باب الکفاءۃ، ج: 3، ص: 81، ط: سعید)
و فی الفتاوى الهندية : ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء صح النكاح في ظاهر الرواية عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - آخرا وقول محمد - رحمه الله تعالى - آخرا أيضا حتى أن قبل التفريق يثبت فيه حكم الطلاق والظهار والإيلاء والتوارث وغير ذلك ولكن للأولياء حق الاعتراض وروى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن(1/ 292)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94125کی تصدیق کریں
2     104
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات