میرا سوال یہ ہے کہ میں نے ایک شخص کو فارم ہاؤس کی بکنگ کے لیے سرمایہ کاری کے طور پر ساڑھے تین لاکھ روپے دیے۔ اس شخص نے مجھ سے معاہدہ کیا کہ پانچ مہینوں کے بعد وہ مجھے دو لاکھ روپے منافع دے گا۔ لیکن اب دس مہینے گزر چکے ہیں اور اس نے مجھے صرف میری اصل رقم واپس کی ہے، منافع نہیں دیا۔ کیا یہ دو لاکھ روپے سود شمار ہوں گے یا یہ حلال ہوں گے؟
سائل نےسرمایہ کاری کاطریقہ کاراور اس شخص کےساتھ ہونےوالےمعاہدےکی تفصیل بیان نہیں کی ،تاکہ اس کے مطابق جواب دیاجاتا،تاہم اگرسائل نےمذکور رقم اس شخص کوبطورقرض نہ دی ہو،بلکہ بطورکاروبار(شرکت یامضاربت)دی ہوتو اس پرسودکاحکم تولاگونہیں ہوگا،البتہ اس طرح کامتعین نفع پیسوں میں طے کرناشرعاًجائزنہیں ، اس کی وجہ سے یہ معاملہ شرعاً فاسد ہوچکاہے،لہذااگر اس شخص کابھی سرمایہ شامل تھاتوایسی صورت میں منافع اپنے اپنے سرمایہ کےتناسب سےتقسیم ہوگاجس کا مطالبہ سائل کرسکتاہے۔
تاہم سوال کی نوعیت مختلف ہوتومکمل سوال پوری وضاحت کےساتھ لکھ کردوبارہ ارسال کردیں توانشاءاللہ غوروفکر کےبعدحکم شرعی سےآگاہ کردیاجائیگا۔
کمافی بدائع الصنائع: (ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح۔(ج: 6، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة،ص: 59، مط: سعیدکراچی)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: وأن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة لا معينا فإن عينا عشرة أو مائة أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة، كذا في البدائع.(ج: 2، الفصل الأول في بيان أنواع الشركة، ص: 302، مط: ماجدیۃ)
وفی الدرالمختارشرح تنویرالابصار:(والربح في الشركة الفاسدة بقدر المال، ولا عبرة بشرط الفضل) فلو كل المال لأحدهما فللآخر أجر مثله ،كما لو دفع دابته لرجل ليؤجرها، والأجر بينهما، فالشركة فاسدة ،والربح للمالك ،وللآخر أجر مثله، وكذلك السفينة والبيت.(ج: 4، فصل في الشركة الفاسدة، ص: 326، مط: سعید)
وفی ردالمحتارتحت قوله:( والربح إلخ): حاصله أن الشركة الفاسدة إما بدون مال أو به من الجانبين أو من أحدهما، فحكم الأولى أن الربح فيها للعامل كما علمت، والثانية بقدر المال، ولم يذكر أن لأحدهم أجرا؛ لأنه لا أجر للشريك في العمل بالمشترك كما ذكروه في قفيز الطحان والثالثة لرب المال وللآخر أجر مثله،الخ(ج: 4، فصل في الشركة الفاسدة، ص: 326، مط: سعید)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0