شرکت و مضاربت

لیز کی زمین کو منافع کے ساتھ آگے کرایہ پر دینا

فتوی نمبر :
92339
| تاریخ :
2026-02-18
معاملات / مالی معاوضات / شرکت و مضاربت

لیز کی زمین کو منافع کے ساتھ آگے کرایہ پر دینا

رشید صاحب نے کسی سرکاری ادارے کی زمین تقریباً تین ہزار گز کو لیز پر گیارہ (11) سال کے لیے حاصل کیا ، اور ہر ماہ ایک مخصوص رقم ادارہ کو ادا کرنے کا معاملہ طے کیا ، زمین حاصل کرنے کے بعد اس زمین کو عبد اللہ صاحب کو کرائے پر دے دیا ، عبد اللہ صاحب نے اس زمین پر دکانیں بناکر آگے اضافی کرائے پر دے دیئے ، عبد اللہ صاحب زائد کرایہ وصول کرکے اس میں سے کم کرایا رشید صاحب کو دینگیں اور رشید صاحب اس میں سے لیز کی طے شدہ رقم سرکاری ادارے کو ادا کریں گے ، واضح رہے سرکاری ادارے سے ڈیل رشید صاحب کی ہورہی ہے ، کیوں کہ رشید صاحب نے ہی ساری محنت کرکے سرکاری ادارے کا اجازت نامہ اور لیز حاصل کی ہے ، واضح رہے کہ سرکاری ادارہ اس بات پر راضی ہے کہ اس کو کرائے پر دیا جاسکتا ہے ، اور کرایہ کی مقررہ مدت کے بعد سرکاری ادارے کو امید ہوتی ہے کہ یہ تعمیر ہم مزید آگے کرائے پر دے سکتے ہیں ، فی الوقت سرکاری ادارہ صرف زمین دے رہا ہے ، باقی انویسٹمنٹ ، تعمیر کا خرچہ اور تمام معاملات عبد اللہ صاحب کریں گے ، زمین رشید صاحب لیز پر لیں گے اور عبد اللہ صاحب انویسٹمنٹ کر کے تعمیر کو آگے کرائے پر دیں گے ۔
زمین سرکاری ملکیت ہے، لیز کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ ادارہ کسی بھی شخص کو گیارہ ، یا بائیس ، یا تینتیس سال تک کے لئے لیز کردیتا ہے اور اس کا وہ ہر ماہ ایک مخصوص رقم طے کرکے زمین سے لاتعلق ہوجاتا ہے، لیز پر لینے والا شخص اس کو بنا کر استعمال کرے ، کرایہ دے ،سارے معاملات میں مقررہ مدت تک وہ خود مختار ہوتا ہے ، شریعت مطہرہ کی روشنی میں یہ معاملہ کرنا درست ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو اس کی جائز کیا صورت ہوسکتی ہے ، براہ کرم رہنمائی فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں رشید کا سرکار سے زمین لیز پر لیکر عبد اللہ کو اسی حالت میں کرایہ پر دینا اور پھر عبد اللہ کا اس میں دکانیں بناکر کسی اور کے ساتھ کرایہ داری کا معاملہ کرنا درست ہے ، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ، لیکن رشید کا زمین پر کسی قسم کے تعمیراتی کام میں شریک ہوئے بغیر سرکاری نرخ سے زائد کرایہ عبد اللہ سے وصول کرنا جائز نہیں ہے، وہ عبد اللہ سے وہی کرایہ وصول کرنے کا مجاز ہے جو سرکار سے زمین لیز پر لیتے وقت طے ہوا تھا ، البتہ اگر رشید نے زمین کو کرایہ پر دینے سے پہلے اس پر کسی قسم کا تعمیراتی کام کروایا ہو تو ایسی صورت میں ان کے لیے زائد کرایہ لینے کی شرعاً گنجائش ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: و) تصح إجارة أرض (للبناء والغرس) وسائر الانتفاعات كطبخ آجر وخزف ومقيلا ومراحا حتى تلزم الأجرة بالتسليم أمكن زراعتها أم لا بحر (‌فإن ‌مضت ‌المدة ‌قلعهما وسلمها فارغة) لعدم نهايتهما (إلا أن يغرم له المؤجر قيمته) أي البناء والغرس (مقلوعا) بأن تقوم الأرض بهما وبدونهما فيضمن ما بينهما اختيار،اھ(کتاب الاجارۃ، باب مایجوز من الاجارۃ، ج: ٦، ص: ٣٠، مط: سعيد)
وفي الهندية: وإذا استأجر دارا وقبضها ثم آجرها فإنه يجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل، وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائزة أيضا إلا إنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها، وإن كانت من خلاف جنسها طابت له الزيادة ولو زاد في الدار زيادة كما لو وتد فيها وتدا أو حفر فيها بئرا أو طينا أو أصلح أبوابها أو شيئا من حوائطها طابت له الزيادة، وأما الكنس فإنه لا يكون زيادة وله أن يؤاجرها من شاء إلا الحداد والقصار والطحان وما أشبه ذلك مما يضر بالبناء ويوهنه هكذا في السراج الوهاج.(كتاب الاجارة، الباب السابع في اجارة المستاجر،ج: ٤، ص: ٥٢٥، مط: ماجدية)
وفي شرح المجلة: كل يتصرف في ملكه كيف يشاء لكن اذا تعلق حق الغير به يمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال ،اھ، (الفصل الاول فی بیان بعض قواعد فی احکام الاملاک، ج: ٤، ص: ١٣٢، ماده: ١١٩٢، مط: مكتبة اسلامية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92339کی تصدیق کریں
0     58
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مشترکہ رقم سے ،کسی ایک شریک کا اپنے مہمان کو کھانا کھلانا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروبار میں شرکت کا صحیح طریقہ

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 6
  • شریک کے لیے تنخواہ مقررکرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 3
  • مکان میں کسی کو شریک کرنے کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • شریکین میں منافع کی تقسیم کا طریقہ

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • مضاربت کے مختلف مسائل

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • معاضہ طے کئے بغیر کسی کے کاروبار میں محنت کرنے والے کا حصہ کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان ماہانہ مضاربہ منافع کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک ٹرم سرٹیفیکیٹ کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں انویسٹمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری شرکت میں نقصان سے متعلق حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • میزان بینک میں انویسٹمنٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • کاروباری شرکت کے اصول

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 1
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں انویسمنٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • تکافل کمپنیوں کی پالیسی لینے کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • اسمارٹ نامی کمپنی میں انویسمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • تکافل لائف انشورنس کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   شرکت و مضاربت 0
  • وراثتی کاروبار سے کسی ایک وارث کی شرکت ختم کرنا

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
  • بلڈرز کے ساتھ انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   شرکت و مضاربت 0
Related Topics متعلقه موضوعات