قاضی کے بغیر اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہو سکتا ہے؟
واضح ہوکہ نکاح کے صحیح ہونے کے لئے وکیل اور قاضی کاہونا لازم نہیں؛ بلکہ صرف دو مردوں یا ایک مرد اور دوعورتوں کا گواہ کے طور پر موجود ہونا کافی ہے، لہذا اگربالغ لڑکا اور لڑکی دو بالغ مرد یا ایک بالغ مرد اور دو بالغہ عورتوں کی موجودگی میں اولیاء کی اجازت سے آپس میں ایجاب و قبول کر لیں تو شرعاً یہ نکاح صحیح اور درست منعقد ہوجائے گا۔
کمافی الدر: (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)على الاصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف أو أعميين أو ابني الزوجين أو ابني أحدهما اھ(کتاب النکاح، ج:3، ص: 23، ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: (وأما ركنه) فالإيجاب والقبول، كذا في الكافي والإيجاب ما يتلفظ به أولا من أي جانب كان والقبول جوابه هكذا في العناية (وأما شروطه) فمنها العقل والبلوغ والحرية في العاقد إلا أن الأول شرط الانعقاد فلا ينعقد نكاح المجنون والصبي الذي لا يعقل والأخيران شرطا النفاذ؛ فإن نكاح الصبي العاقل يتوقف نفاذه على إجازة وليه هكذا في البدائع اھ (الباب الأول في تفسير النكاح شرعا وصفته وركنه وشرطه وحكمه، کتاب النکاح، ج: 1، ص: 267، ط: ماجدیة)