میری گارمنٹس کی فیکٹری ہے جس میں ہم مختلف پارٹیز کے ساتھ کام کرتے ہیں یعنی انہیں مال بنا کر دیتے ہیں، اب بعض اوقات یہ ہوتا ہے، کہ ہمارے پاس پارٹی ہوتی ہے جو چاہتی ہے کہ ہم اسے مال بنا کر دیں لیکن ہمارے پاس اس کے لیے رقم نہیں ہوتی،کیونکہ کپڑا خریدنے اور پھر اسے تیار کرنے پر اخراجات آتے ہیں اور پھر عام طور پر کلائنٹ یکمشت ادائیگی نہیں کرتا بلکہ طے شدہ دورانیے کے تحت آہستہ آہستہ کرتا ہے، کیا اس مقصد کے لیے ہم کسی انویسٹر کو اس شرط پر شامل کر سکتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں کم از کم ایک مخصوص رقم دے جس سے ہم اس کلائنٹ کا کام کرسکیں اور پھر مستقل اس کے ساتھ کام میں اس کا پیسہ استعمال کرتے رہیں تو ہم مہینے میں جتنے بھی پیس اس کلائنٹ کو بنا کر دیں ان کے مطابق ہر پیس کے عوض ایک مخصوص رقم اس انویسٹر کو دیتے رہیں، مثلاً اگر ہم اس کلائنٹ کو ایک مہینے میں دس ہزار شرٹس بنا کر دیتے ہیں اور انویسٹر کے ساتھ ہمارا فی پیس دس روپے منافع طے ہوا ہو تو ہم انویسٹر کو اس مہینے میں ایک لاکھ روپے دیں گے، کیا شریعت کی رو سے ایسا کرنا ٹھیک ہے؟
سوال میں ذکر کردہ معاملے کی مذکور صورت شرعا درست نہیں، مذکور معاملہ کی جائز صورت یہ ہے کہ سائل جس انویسٹر سے اپنے کاروبار کے لیئے پیسے لینا چاہے، اسے پر پیس کے حساب سے منافع دینے کے بجائے کاروبار میں ہونے والے حقیقی منافع کا فیصدی تناسب طے کرے، (مثلا کاروبار میں ہونے والے منافع کا دس فیصد انوسٹر کا اور باقی سائل کا ہوگا) اور اس مخصوص کاروبار میں سائل کی غفلت اور لا پرواہی کے بغیر ہونے والے نقصان کی ذمہ داری انویسٹر پر عائد کی جائے، چنانچہ اس طرح کرنے سے شرعا یہ معاملہ جائز اور درست ہوگا۔
کما فی بدائع الصنائع: (ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح.
(وأما) الذي يخص البعض دون البعض: فيختلف اھ( فصل فی بیان شرائط جواز انواع الشرکۃ،ج: 6، ص: 59، ط: سعید)
وفیہ ایضا: ولو قال: خذ هذه الألف على أن لك نصف الربح، أو ثلثه ولم يزد على هذا فالمضاربة جائزة قياسا واستحسانا، وللمضارب ما شرط، وما بقي فلرب المال، والأصل في جنس هذه المسائل: أن رب المال إنما يستحق الربح؛ لأنه نماء ماله لا بالشرط، فلا يفتقر استحقاقه إلى الشرط، بدليل أنه إذا فسد الشرط كان جميع الربح له، والمضارب لا يستحق إلا بالشرط؛ لأنه إنما يستحق بمقابلة عمله، والعمل لا يتقوم إلا بالعقد ( فصل فی رکن عقد المضاربۃ، ج: 6، ص: 70، ط: سعید)
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0