حضرت میرے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی اور ایک مہینہ بعد فوت ہوئی، اب سوال یہ ہے کہ میں نے اس کا عقیقہ نہیں کیا تھا، کیا وفات کے بعد بھی اس کا عقیقہ مسنون ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ أولاد الله كى طرف سے اىك خاص نعمت ہے، اور عقىقہ اس نعمت پر بطور شكر ادا كىا جاتا ہے،چونکہ بچے کی وفات سے یہ نعمت زائل ہو جاتی ہے اور نعمت کے زوال کے بعد شکرانہ کا موقع نہیں رہتا، لہذا بچہ یا بچی کا عقیقہ اس کی وفات کے بعد نہیں ہو سکتا، البتہ اگر کوئی شخص تسکین قلب کی خاطر نفلی صدقہ وغیرہ کرنا چاہے تو اس کی بھی ممانعت نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے لیے فوت شدہ بچی کا عقیقه کرنا مسنون نہیں، تاہم اگر وہ خوش دلی سے صدقہ وغیرہ کی نیت سے کرنا چاہتا ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
كما في الهندية: العقيقة عن الغلام وعن الجارية وهي ذبح شاة في سابع الولادة وضيافة الناس وحلق شعره مباحة لا سنة ولا واجبة كذا في الوجيز للكردري. وذكر محمد - رحمه الله تعالى - في العقيقة فمن شاء فعل ومن شاء لم يفعل وهذا يشير إلى الإباحة فيمنع كونها سنة.اهـ (كتاب الكراهية، الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد وكناهم والعقيقة، ج: 5، ص: 362، ط: مكتبة ماجدية)
وفي رد المحتار: وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قد ولد له من قبل لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد.اهـ (كتاب الأضحية، ج: 6، ص: 326، ط: إيج إيم سعيد)
وفي فيض الباري شرح صحيح البخاري: وحاصله: أن الغلام إذا لم يعق عنه، فمات لم يشفع لوالديه. ثم إن الترمذي أجاز بها إلى يوم إحدى وعشرين. قلت: بل يجوز إلى أن يموت، لما رأيت في بعض الروايات أن النبي صلى الله عليه وسلم عق عن نفسه بنفسه. والسر في العقيقة أن الله أعطاكم نفسا، فقربوا له أنتم أيضا بنفس، وهو السر في الأضحية.اهـ (باب العتيرة، ج: 5، ص: 648، ط: دار الكتب العلمية بيروت لبنان)