بچوں کے عقیقہ میں لڑکے کے دو حصے اور لڑکی کا ایک حصہ ہونے کی وجہ بتا سکتے ہیں ؟
سب سے پہلے بطور تمہید یہ جان لینا چاہیے کہ ہر حکم شرعی کے پیچھے بہت سی حکمتیں اور مصلحتیں کار فرما ہوتی ہیں، لیکن چونکہ انسانی عقل کا دائرہ اتنا وسیع نہیں کہ ہر حکم کی مصلحت تک اس کی رسائی ہو سکے ، اور نہ ہی کسی مسلمان کے لیے جائز ہے کہ وہ صرف مصلحت کی بنیاد پر حکم شرعی پر عمل کرے، بلکہ کسی حکم شرعی کی مصلحت، خواہ ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے، اس کو دل سے ماننا اور اس پر عمل کرنا ایک مسلمان کا فریضہ ہے ، اس لیے اس طرز عمل سے اجتناب لازم ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ اس کا اصل جواب تو یہ ہے کہ یہ حکم اسی طرح نبی کریم ﷺ سے منقول ہے ، لہذا مزید کسی جستجو اور غور و فکر کی ضرورت نہیں، لیکن اس کے باوجود اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ لوگوں کے نزدیک بنسبت لڑکیوں کے لڑکوں کا نفع زیادہ ہے، لہذا دو کا ذبح کرنا زیادتی نفع کے مناسب ہے ، حضرت ابن قیم اس بارے میں لکھتے ہیں کہ لڑکے کے لیے دو، اور لڑکی کے لیے ایک بکری کاعقیقہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ لڑکے کو لڑکی پر فضیلت ہے اور جب لڑکے کے وجود سے والد پرا تمام و کمال نعمت اور سرور و خوشی زیادہ ہوتی ہے ، تو اس پر مزید شکر واجب ہے، کیونکہ جب زیادہ نعمت ملی تو زیادہ شکر کرنا لازم آتا ہے۔
كما في سنن الترمذي: 1516 - حدثنا الحسن بن علي الخلال قال: حدثنا عبد الرزاق، عن ابن جريج قال: أخبرنا عبيد الله بن أبي يزيد، عن سباع بن ثابت، أن محمد بن ثابت بن سباع، أخبره، أن أم كرز أخبرته، أنها سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العقيقة، فقال: «عن الغلام شاتان، وعن الأنثى واحدة، ولا يضركم ذكرانا كن أم إناثا»: هذا حديث صحيح اھ (4/ 98)
و في السنن الكبرى للبيهقي: عن ابن عباس، رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم عق عن الحسن كبشا وعن الحسين كبشا اھ (9/ 508)
و في إعلام الموقعين عن رب العالمين: وأما العقيقة فأمر التفضيل فيها تابع لشرف الذكر، وما ميزه الله به على الأنثى، ولما كانت النعمة به على الوالد أتم، والسرور والفرحة به أكمل؛ كان الشكران عليه أكثر؛ فإنه كلما كثرت النعمة كان شكرها أكثر، والله أعلم. (2/ 115)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصا، والله تعالى أعلم. (6/ 336) والله اعلم بالصواب