کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عقیقہ کے بارے میں بتائیں کہ لڑکا یا لڑکی کے عقیقہ کا طریقہ کیا ہےجب وہ پیدا ہوجائے؟
عقیقہ کرنا مستحب ہے اور پیدائش کے ساتویں، چودھویں یا اکیسویں روز اگر استطاعت ہو تو بچے کی طرف سے دو بکرے اور بچی کی طرف ایک بکری ذبح کی جائے ورنہ زندگی میں جب بھی گنجائش ہو یہ عمل انجام دیا جا سکتا ہے، جبکہ بچے کی طرف ایک بکرا یا بکری کرنے کی بھی گنجائش ہے۔
ففي النتف في الفتاوى: والثاني عقيقة الغلام والثالث عقيقة الجارية وذلك ان الصبي اذا حلق رأسه اول ما حلق فانه يذبح للغلام شاتان وللجارية شاة واحدة وهي سنة في قول ابي حنيفة واصحابه اه(1/ 241) والله أعلم بالصواب!