السلام علیکم مفتی صاحب!
میں اپنے بیٹے کا عقیقہ کرنا چاہتا ہوں، اس لئے مندرجہ ذیل سوالات پر آپکی رہنمائی درکار ہے ۔
سوال نمبر (1): عقیقہ کے جانور کیلئے کیا شرائط ہیں ؟مثلاً عمر اور کوئی ظاہری نقص کے حوالے سے کیا احکامات ہیں؟
سوال نمبر (2):معاشرے میں قائم کچھ عقائد کے والدین یا دیگر اہل وعیال عقیقہ کا گوشت نہیں کھا سکتے ؟ اس کے حوالے سے تصدیق فرمادیں؟
سوال نمبر (3): قربانی کے گوشت کی طرح عقیقہ کے گوشت کے حصے کے حوالے سے کیا احکامات ہیں ؟ اور اگر اہلِ خانہ زیادہ ہوں تو سارا گوشت خود استعمال کر سکتے ہیں ؟
(1):عقیقہ کے جانور کے لئے وہی شرائط ہیں،جو قربانی کے جانور کے لئے ہیں،اس لئے جس جانور کی قربانی درست ہے،اس کا عقیقہ بھی درست ہے۔
(2):عقیقہ کا گوشت ماں،باپ،عزیز رشتہ دار سب کھا سکتے ہیں،اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ اس گوشت کو ماں،باپ یا دیگر اہل و عیال نہیں کھا سکتے ہیں۔
(3):عقیقہ کے گوشت کو بھی قربانی کے گوشت کی طرح تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ غرباء ومساکین کے لئے اور ایک حصہ عزیز رشتہ داروں کے لئے اور ایک حصہ گھر اور اہل وعیال کے لئے رکھنا مستحب ہے،جبکہ سارا گوشت خود رکھنا بھی بلاشبہ جائز ہے۔
کمافی اعلاء السنن: روی ابن حزم فی المحلی من طریق الحسن البصری:یصنع بالعقیقة مایصنع بالاضحیة وعن عطاء قال:یاکل اھل العقیقة ویھدونھا،امر رسول اللہﷺبذلك زعموا وان شاء تصدق(الیٰ قوله)وفی قوله:یاکل اھل العقیقة ویھدونھا،دلیل علیٰ بطلان مااشتھر علیٰ الالسن ان اصول المولود لایاکلون منھا،فان اھل العقیقة ھم الابوان اولا ثم سائر اھل البیت وقال الموفق فی المغنی وسبیلھا فی الاکل والھدیة والصدقة سبیل الاضحیة اھ(17/127)۔
وفی رد المحتار: وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصا اھ(6/336)۔