میرا سوال عقیقہ سے متعلق ہے،وہ یہ ہے کہ اگر میری استطاعت ہو تو کیا میں لڑکی کی طرف سے ایک بکری کا عقیقہ کرسکتا ہوں اور مجھے عقیقہ کا مکمل مسئلہ اور سنت طریقہ بتادیں۔
واضح ہوکہ عقیقہ کا سنت طریقہ یہ ہے کہ ساتویں روز بچے کے بال صاف کرکے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کی جائے،اور بچے کا کوئی اچھا نام بھی تجویز کیا جائے،پھر اگر پیدا ہونے والا بچہ لڑکا ہو تو دو بکرے اور اگر لڑکی ہو تو ایک بکری ذبح کرنا مستحب ہے،عقیقہ کے گوشت کا حکم بھی قربانی کے گوشت کی طرح ہے کہ اس کا گوشت چاہے تو تقسیم کردے یا پکاکر رشتے داروں وغیرہ کو کھلادے اور اگر قربانی کی طرح اس کے تین حصے کیے جائیں تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
کمافی سنن أبی داؤد: عن ام کرز الکعبۃ قالت سمعت رسول اللہ ﷺ عن الغلام شاتان مکافئتان عن الجاریۃ شاۃ (2/36)۔
وفی رد المحتار: يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا(6/ 336)۔