مسئلہ نمبر۱۔عقیقہ کی کیا شرائط ہیں؟
نمبر ۲۔ کیا والدین ہی اولاً عقیقہ کریں گے؟ کیا کوئی شخص اپنا عقیقہ کرسکتا ہے؟
نمبر ۳۔ کس عمر تک عقیقہ کیا جاسکتا ہے؟
نمبر ۴۔ کیا عقیقہ کرنا قربانی سے پہلے ضروری ہے؟
واضح ہو کہ عقیقہ ایک مستحب امر ہے اور اس کے جانور اور گوشت کی تقسیم سے متعلق شرائط وغیرہ اکثر وہی ہوتی ہیں جو قربانی کے جانور کیلئے ہوتی ہیں ۔
تاہم اگر کسی کے بچپن میں اس کے والدین نے اس کا عقیقہ نہ کیا ہو تو بڑے ہونے کے بعد وہ اپنا عقیقہ خود بھی کرسکتا ہے ، جبکہ اس کا قربانی سے پہلے ہونا ضروری نہیں۔
فی تنقیح الحامدیة : العقیقة تطوع ان شاء فعلها و ان شاء لم یفعل و هی أن یذبح شاة إذا أتی علی الولد سبعة ایام (الی قوله) و حكمها كأحكام الاضحیة و لا یكون فیه إلا السلیمة من العیوب لأنه إھراق الدم كالأضحیة و لو قدم الذبح قبل یوم السابع أو أخره عنه جاز إلا ان یوم السابع أفضل (الی قوله) و وقتها بعد تمام الولادة الی البلوغ فلا یجزی قبلها و ذبحها فی الیوم السابع یسن الخ
و فی إعلاء السنن :عن الحسن البصري : إذا لم یعق عنک فعقّ عن نفسک ، و إن کنت رجلاً . (۱۷/۱۳۴، باب أفضلیة ذبح الشاة في العقیقة ، تحت حدیث :۵۵۱۴ ، بیروت)۔