محترم مفتی صاحب!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!بعد از عرض یہ ہے کہ:زید کی خالہ کی بیٹی نے بچپن میں (دو سال سے کم عمر میں) غلطی سے صرف ایک مرتبہ زید کی والدہ کا دودھ پیا تھا۔یہ دودھ اس نے زیدکے چھوٹے بھائی عمرو کے ساتھ پیا تھا۔واضح رہے کہ:
- یہ دودھ پینا جان بوجھ کر نہیں تھا
- صرف ایک مرتبہ اتفاقاً یہ عمل ہوا
اب زید کے گھر والے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیازید کا نکاح اس کی خالہ کی بیٹی سے شرعاً ہو سکتا ہے یا نہیں؟براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں:
1. کیا اس ایک مرتبہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟
2. کیا اس صورت میں زید اور اس کی خالہ کی بیٹی کے درمیان نکاح جائز ہے یا حرام؟نیز گزارش ہے کہ اس مسئلے کے بارے میں اسکین شدہ (signed) فتویٰ بھی مرحمت فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً!
واضح ہو کہ اگر کوئی بچہ ،بچی مدتِ رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے ، چاہے وہ اتفاقاً ایک ہی بار کیوں نہ ہو،تب بھی اس سے حرمتِ رضاعت ثابت ہو جاتی ہے،لہٰذا مسمٰی زید کی خالہ کی بیٹی نے اگر ایک بار بھی زید کی والدہ کا دودھ پی لیا ہو ،تو ان کے درمیان حرمتِ رضاعت ثابت ہوکر اب خالہ کی وہ بیٹی ْان کی تمام اولادکی رضاعی بہن بن چکی ہے،اور جس طرح حقیقی بہن سے نکاح کرنا جائز نہیں، اسی طرح رضاعی بہن سے بھی نکاح جائز نہیں ہوتا ،اس لئے مذکور دودھ پینے والی لڑکی کا مسمٰی زید سمیت کسی بھی بھائی کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہ ہوگا،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی العناية شرح الهداية: قال (قليل الرضاع وكثيره سواء إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم)اھ (كتاب الرضاع ،ج:۳ص438 ،ط:دار الفکر)
وفي الدر المختار: (ولا) حل ( بين الرضيعة وولد مرضعتها ) أى التي أرضعتها (وفي رد المحتار تحت) (قوله وولد مرضعتها) أي من النسب، أما الذي من الرضاع فإنه وإن كان كذلك اھ (کتاب الرضاع،ج:۳،ص:۲۱۷،ط:سعید)