محترم مفتی صاحب،السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا سوال ایک حساس اور عملی نوعیت کا ہے، براہِ کرم حنفی فقہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔میرا تعلق پچھلے تقریباً 19 سال سے صرف اسلامی بینکاری سے رہا ہے۔ میں نے کبھی کنونشنل بینکاری میں کام نہیں کیا۔ گزشتہ ایک سال سے میں بے روزگار ہوں، میری سیونگز مسلسل ختم ہو رہی ہیں، اور جو چھوٹا کاروبار شروع کیا ہے وہ ابھی ابتدائی (early stage) میں ہے اور گھر کے اخراجات پورے نہیں ہو پا رہے۔ میں مسلسل فل فلیج اسلامی بینکوں میں جاب کی کوشش کر رہا ہوں مگر ابھی تک کوئی موقع دستیاب نہیں ہوا۔
اس دوران مجھے ایک مائیکرو فنانس بینک میں Chief Retail Officer (CRO) کی آفر زیرِ غور ہے۔ اس بینک میں کنونشنل بینکنگ بھی ہے،اسلامی بینکاری بھی ہے، تمام برانچز میں Islamic Windows موجود ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی کے تحت مستقبل میں اسلامی کنورژن کی سمت بھی موجودہے۔اس پوزیشن کی ذمہ داریاں درج ذیل ہوں گی:اوور آل ریٹیل بینکنگ اسٹریٹیجی (اسلامک + کنونشنل)،سیلز ٹیم کی ہائرنگ اور مانیٹرنگ، سیلز ٹیم اسلامی اور کنونشنل دونوں پروڈکٹس بیچے گی (میں خود براہِ راست سیلز میں شامل نہیں ہوں گا)، ڈیجیٹل بینکنگ / ایپس کی اسٹریٹیجی، لو کاسٹ ڈپازٹ موبلائزیشن کی اوور آل نگرانی، اسلامی ونڈوز کے فروغ اور مستقبل میں اسلامی کنورژن میں فعال کردار۔ میری نیت یہ ہے کہ:جہاں ممکن ہو اسلامی بینکاری کو ترجیح اور فروغ دیا جائے، کنونشنل سرگرمیوں کو خود execute نہ کیا جائے،جیسے ہی کسی فل فلیج اسلامی بینک میں موزوں موقع ملے، یہ جاب چھوڑ دی جائے۔
براہِ کرم یہ رہنمائی فرمائیں کہ:آیا یہ جاب اصولی طور پر جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر ناجائز ہو تو کیا اضطراری حالت میں عارضی اجازت کی گنجائش ہے؟جزاکم اللہ خیراً، والسلام
واضح ہو کہ سودی (کنونشنل) بینکاری کا نظام شرعاً ناجائز ہے، اور اس سے متعلق ایسے امور میں حصہ لینا جن پر سودی معاملات کا قیام، فروغ یا انصرام موقوف ہو، شرعاً "معاونت علی الحرام "میں داخل ہے۔چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگرچہ سائل کا براہِ راست سودی معاہدات کرنے کا ارادہ نہیں، تاہم مذکورہ عہدہ (Chief Retail Officer) کی نوعیت ایسی ہے کہ اس میں اسلامی اور کنونشنل دونوں نظاموں کی مجموعی نگرانی، پالیسی سازی، سیلز اسٹریٹیجی اور فروغ شامل ہے، اور عملاً کنونشنل (سودی) مصنوعات کی پیش رفت بھی اسی نظم و نسق کے تحت ہوتی ہے؛ لہٰذا یہ منصب سودی معاملات میں بالواسطہ مگر مؤثر معاونت کے زمرے میں آتا ہے، جو شرعاً جائز نہیں۔لہٰذا اس قسم کی ملازمت اختیار کرنا (اگرچہ نیت اسلامی بینکاری کے فروغ کی ہو) درست نہیں ۔جس سے اجتناب لازم ہے ۔
سائل کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھتے ہوئے حلال ذرائع آمدن کے لیےکوشش جاری رکھے، بسا اوقات آزمائش کے یہ مراحل ہی آئندہ آسانیوں اور بہتر مواقع کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔
کماقال اللہ تعالیٰ: "وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ" (المائدۃ، آیت:2)
وفي الصحيح للامام مسلم رحمہ اللہ: "عن جابر، قال:لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء.(ج:٢، باب لعن آكل الربا ومؤكله،ص:٢٧،ط:قديمي كتب خانه)
وفی تکملۃفتح الملھم: فان کان عمل المؤظف فی البنک مایعین علی الربا،کالکتابۃ او الحساب، فذٰلک حرام لوجھین: الاؤل: اعانۃعلی المعصیۃ، والثانی: اخذالاجرۃ من المال الحرام،(ج: 1،ص: 619، مط: دارالعلوم کراچی)