جی میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں 8 سال سے ملازمت کر رہا تھا، وہاں سے میری نوکری ختم ہو گئی ہے، اور پچھلے تقریباً 8، 9 ماہ سے میں بے روزگار ہوں۔ میں شادی شدہ ہوں، میرے دو بچے ہیں، کرایے کے گھر میں رہتا ہوں، والدین ساتھ ہیں، والد صاحب ریٹائرڈ ہیں۔ جو جمع شدہ پیسے تھے انہی سے خرچ چل رہا تھا، مگر وہ بھی اب ختم ہو چکے ہیں۔ ایک جگہ نوکری ملی تھی لیکن ایک مہینے میں وہاں سے بھی ختم ہو گئی۔ میں نے بائیکیا رائیڈر بھی چلایا لیکن گاڑی کی مینٹیننس اور پیٹرول کا خرچ پورا نہ ہو سکا۔
بینک وغیرہ سے نوکری کی آفر آئی تھی لیکن سودی نظام اور غیر اسلامی بینک ہونے کی وجہ سے میں نے وہاں جوائن نہیں کیا۔ کافی کوشش کی کہ کوئی نوکری مل جائے یا کسی اسلامی بینک میں، جو سودی نظام سے پاک ہیں، وہاں ملازمت ملے لیکن نہیں ہو سکا۔ میں کافی پریشان ہوں۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ اپنے گھر کا خرچ پورا کرنے، بیوی بچوں کی ضروریات پوری کرنے اور گھر چلانے کے لیے کیا میں فی الحال عام (غیر اسلامی) بینکوں میں ملازمت کر سکتا ہوں، اور ساتھ ساتھ یہ کوشش کرتا رہوں کہ کسی اسلامی بینک میں، جو سود سے پاک ہیں، یا کسی اور پرائیویٹ کمپنی میں نوکری ہو جائے؟
رہنمائی فرمائیں، شکریہ۔
سودی بینک یا کسی بھی ایسے ادارے میں ملازمت کرنا جہاں براہِ راست سودی معاملات میں معاونت لازم آتی ہو (جیسے سودی معاہدات لکھنا، حساب کتاب تیار کرنا، انٹرسٹ کی وصولی و ادائیگی میں معاون بننا) شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ قرآن و سنت میں سود اور اس کے تمام اعوان و انصار پر سخت وعید آئی ہے۔
البتہ اگر کوئی ملازمت ایسی ہو جس کا سودی معاملات سے براہِ راست تعلق نہ ہو مثلاً چوکیداری، ڈرائیونگ،باورچی وغیرہ تو بعض اہلِ علم نے شدید مجبوری اور اضطرار کی حالت میں، عارضی طور پر، وہاں کام کرنے کی گنجائش دی ہے، بشرطیکہ نیت یہ ہو کہ جیسے ہی کوئی مباح اور پاکیزہ ذریعۂ روزگار ملے، فوراً وہاں سے الگ ہو جائےگا،دورانِ ملازمت ہر ممکن حد تک سودی کاموں میں براہِ راست ملوث ہونے سے بچےگا،حلال ذریعۂ معاش کی تلاش مستقل جاری رکھےگا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی شدید مجبوری ہے، بچوں اور والدین کی ضروریات پوری نہ ہو پا رہی ہیں، اور کوئی اور حلال ذریعۂ روزگار میسر نہیں، توعارضی طور پر غیر سودی متعلقہ ڈپارٹمنٹ یا ایسے کام میں نوکری کی جاسکتی ہے جس کا براہِ راست تعلق سودی معاہدات سے نہ ہو،تاہم ، سائل کوچاہئیے کہ مایوسی اختیار کرنے کے بجائے پورے اعتماد کے ساتھ حلال روزگار کی تلاش میں کوشش اور دعا جاری رکھے، ان شاء اللہ تعالیٰ بہت جلد اللہ رب العزت اپنے فضل سے رزقِ حلال کا سامان پیدا فرما دیں گے۔
کما فی صحيح مسلم : عن جابر، قال:لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء.» (3/ 1219 ت عبد الباقي)
وفي فقه البيوع على المذاهب الأربعة مع تطبيقاته المعاصرة مقارناً بالقوانين الوضعية للشيخ محمد تقي العثماني:
أمّا إذا كانت الوظيفة ليس لها علاقة مباشرة بالعمليات الربويّة مثل وظيفة الحارس أو سائق السيّارة، أو العامل على الهاتف، أو الموظّف المسؤول عن صيانة البناء (إلى قوله) فلا يَحرُمُ قبولُها إن لم يكن بنيّة الإعانة على العمليّات المحرّمة، وإن كان الاجتناب عنها أولى، ولا يُحكَم في راتبه بالحرمة، لما ذكرنا من التفصيل في الإعانة والتسبّب وفي كون مال البنك مختلطاً بالحلال والحرام، ويجوز التعامل مع مثل هؤلاء الموظّفين هبةً أو بيعاً أو شراءً. اهـ(مكتبة معارف القرآن، كراتشي، ج 2، ص 1065)