السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ! موجودہ بینک کا نظام سودی طرز پر ہے اور نظام چلانے کے لئے کسی نہ کسی کو بینک کی ملازمت اختیار کرنی پڑتی ہے، ان میں سے اکثریت مسلمان ہوتےہیں کیا ایسی ملازمت کا معاوضہ تنخواہ اور دیگر مراعات حلال زمرے میں آتے ہیں؟ قرآن پاک اور حدیث نبوی ﷺ یا علم فقہ میں کیا حل بتایا ہے؟
مروجہ اسلامی بینکوں جیسے میزان بینک ، البرکہ بینک اور بینک اسلامی وغیرہ میں ملازمت اختیار کرنا اور اس پر اجرت حاصل کرنا جائز اور درست ہے۔
جبکہ عام سودی بینکوں کی ملازمت کے بارے میں قدرے تفصیل ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے ہے جیسے منیجر اور کیشیئر وغیرہ کی ملازمت ایسی ملازمت بالکل حرام اور ناجائز ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے ’’لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أكل الربو وموكله وكاتبه و شاهدیه قال وهم سواء‘‘۔ (مسلم شریف ج ۲ ص ۲۷) یعنی رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، سود دینے والے ، سودی تحریر لکھنے والے ، اور سودی شہادت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ وہ وہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں۔ اور ایسی ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے ، لیکن بینک کی وہ ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے نہیں ، نہ اس کا تعلق سود کے لکھنے سے ہے، نہ سود پر گواہ بننے سے ہے اور نہ سودی معاملات سے ہے اور نہ سودی معاملات میں کسی قسم کی شرکت ہوتی ہے، جیسے چوکیداری کی ملازمت، ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے آمدنی کے متعلق علماءِ کرام کی آراء مختلف ہیں۔
ایک رائے تو یہ ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، یہ بھی جائز نہیں ،کیونکہ ایسے ملازمین کا اگر چہ سودی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں، لیکن انہیں جو تنخواہ دیجاتی ہے، وہ ان رقوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتی ہیں اور اس میں سود بھی شامل ہوتا ہے، اس لئے ایسی ملازمت بھی جائز نہیں ۔
جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بینک کی صرف ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں ،یہ جائز ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملازمین کو جو تنخواہ دیجاتی ہے وہ اگر چہ ان ر قوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتی ہیں، لیکن بینک میں موجود ساری رقم سودی نہیں ہوتی ،بلکہ اس میں کئی قسم کی رقمیں مخلوط ہوتی ہے، یعنی وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو لوگوں نے اپنے کھاتوں میں جمع کروائی ہوتی ہیں، یعنی بینک نے وہ رقم قرض کے طور پر لی ہے اور وہ وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بینک مالکان کا اصل سرمایہ ہے اور وہ رقوم بھی ہوتی ہےجو بطور سود کے حاصل کی گئی ہیں ،لیکن بینک میں جمع رقوم اکثر پہلی دو قسم کی ہوتی ہیں اور آخری قسم کی رقوم ان کی بنسبت کم ہوتی ہیں، اس لئے بینک میں موجود اکثر رقوم حلال ہوتی ہیں، لہذا اگر اس مجموعی مخلوط رقم سے ایسے ملازم کو تنخواہ دی جاتی ہے جس کا سودی معاملات سے کسی بھی قسم کا تعلق نہیں تو ا س کے لیے ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ حرام نہیں۔ البتہ بہتر یہی ہے کہ ان بینکوں کی ایسی ملازمت بھی ختیار نہ کی جائے۔
قال الله تعالى، ولا تعاونوا على الإثم والعدوان (مائده آیت) ۔
وفي مشكاة المصابيح: عن عبد الله بن حنظلة غسيل الملائكة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " درهم ربا يأكله الرجل وهو يعلم أشد من ستة وثلاثين زنية " . رواه أحمد والدراقطني وروى البيهقي في شعب الإيمان عن ابن عباس وزاد : وقال : " من نبت لحمه من السحت فالنار أولى به " اھ (2/ 138)
وفيه ايضا : مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " الربا سبعون جزءا أيسرها أن یزنی الرجل أمه " (2/ 138) والله علم بالصواب!